آداب حیات

by Other Authors

Page 268 of 287

آداب حیات — Page 268

YYA کہ میں اس شخص سے بیزار ہوں جو سر کے بال نوچے اور آوازہ نکال کر روئے اور گریبان پھاڑ ہے۔بعض لوگوں میں یہ جاہلانہ رسم بھی ہے کہ خود کرنے والا اپنے عزیز و اقارب کو رونے پیٹنے کی تحریک کر جاتا ہے۔ایسے مردے پہ اور اس پر نوحہ کرنے والے کو بھی عذاب دیا جائے گا۔حضرت مغیرہ بن شعبہ کا بیان ہے کہ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منا فرماتے تھے جس مُردہ پر نوحہ ہوا۔قیامت کے دن اسی بات کے ذریعہ اسے عذاب دیا جائے گا۔ریعنی جو بات بیٹھنے والی عورت کہتی تھی۔وہی بات قیامت کے دن فرشتے کہ کہہ کر عذاب دیں گے کہ تو ایسا تھا۔ایسا تھا۔) ا مسلم کتاب الجنائز باب الميت لعنب بيگاه اصله) 4 غم ایک قدرتی احساس ہے جو کسی کی تکلیف اور دکھ کو دیکھ کر انسان کے اندر پیدا ہوتا ہے۔غم کی وجہ سے انسان کا دل بوجھل ہو جاتا ہے اور آنسو بہنے لگتے ہیں۔آنر بہانے سے عذاب نازل نہیں ہوتا۔اللہ تعالے اس غم سے منع کرتا ہے جس سے انسان کے جو اس ختم ہو جائیں اور اس کی غفل ماری جائے اور کام کرنے کی قوت مفلوج ہو جا۔حضور اکرم کی الہ عیہ وسلم اسے بڑھ کر شعیق درحیم تھے یہ آپ کی آنکھیں کسی کی تکلیف دیکھ کر بے ساختہ آنسو بہانے لگیں۔حضرت ابن عمر سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سعد بن عبادہ کی عبادت کی۔آپ کے ساتھ عبد الر حمن بن عوف سعد بن ابی وقاص، عبداللہ بن مسعود تھے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رو پڑے اور آپ کو روتے دیکھ کر اور لوگ بھی رونے گئے۔آپؐ نے فرمایا۔کیا تم سنتے نہیں۔اللہ تعالے آنسو بہانے سے اور دل غمگین ہونے پر عذاب نہیں کرتا۔ہاں زبان کی طرف اشارہ کر کے فرمایا۔اس وجہ سے عذاب