آداب حیات

by Other Authors

Page 257 of 287

آداب حیات — Page 257

۲۵۷ اللہ ! مجھ کوبخش دے اور مجھ پر رحم کر۔اور مجھ کو رفیق (اعلیٰ) سے ملائے۔د بخاری کتاب المرضى باب بنی تمنی المريضن الموت) ال۔مریض کی شفایابی کے لئے جہاں اس کی عبادت کے وقت دُعا کی جانی چاہیے وہاں اس مریض کے لئے نائی نہ دعائیں بھی مانگنی چاہئیں کیونکہ خلوص دل سے مانگی جانے والی دعا اللہ تعالیٰ کے حضور قبولیت کا شرف حاصل کر لیتی ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ کوئی دعا اتنی سرعت سے قبول نہیں ہوتی یقینی کہ غائبانہ دھا۔( ترمذی ابواب البر والصلة باب ما جاء فى دعوة الأخ لأخيه بظهر الغيب) عیادت کے وقت اپنے بیمار بھائی کو دم کرنا بھی جائز ہے لیکن دکم اور درود کو پیشہ اور کمائی کا ذریعہ نہیں بنانا چاہیئے۔حضرت جابر بیان کرتے ہیں کہ میر ایک ماموں تھے جو بچھو کا دم کرتے تھے حضور نے جب دم کرنے سے منع فرمایا تو وہ حضور کے پاس آئے اور عرض کیا۔لیے اللہ کے رسول ، آپ نے دم کرنے سے منع فرمایا ہے اور میں بچھو کا دم کرتا ہوں۔اور لوگوں کو اس سے فائدہ ہوتا ہے۔اس پر آپ نے فرمایا تم میں سے جو شخص اپنے بھائی کو کوئی فائدہ پہنچا سکے وہ ضرور پہنچائے۔اسلم کتاب السلام باب استحباب الرقية من العين والعملة والحمة) مقصد یہ ہے کہ دم درود کو پیشہ اور کمائی کا ذریعہ نہ بنایا جائے۔اگر کسی کے اس بابرکت دعائیہ کلمات ہیں جنہیں کس قسم کا شرک نہیں پایا جاتا تو ہر وہ ان کے ذریعہ سے اپنے بھائی کو فائدہ پہنچا سکتا ہے۔حضرت ابو سعید خدری بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت کے کچھ صحابہ سفر میں تھے وہ عرب کے ایک قبیلے کے پاس سے گزرے اور ان کا مہمان بننا چاہا لیکن انہوں نے