آداب حیات — Page 21
۲۱ ٠١٢ قرآن مجید کی تلاوت کے وقت خاموش رہنا چاہیے اور پوری توجہ اور انہماک کے ساتھ قرآن مجید سنا چاہیئے تاکہ خدا تعالی کی رحمتوں اور یہ کتوں کو حاصل کیا جاسکے جیسا کہ اللہ تعالیٰ سورۃ الاعراف میں فرماتا ہے۔و إذا قرى الفرانُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَالْصِتُوا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ ) الاعراف (۲۰۵) اور جب قرآن مجید پڑھا جائے تو اُسے غور سے شنا کرد اور خاموش ہو جاؤ تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔قرآن مجید کی تلاوت کے وقت شور کہنا کافروں کا شیوہ تھا۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ سورة حم السجدہ میں فرماتا ہے۔وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لَا تَسْمَعُوا لِهَذَا القُرانِ وَالغَوافِيهِ لَعَلَّكُمْ تَغْلِبُونَ (حم سجده (٢٤) اور کافروں نے کہا کہ اس قرآن کو مت سنو۔اور اس کے سنانے کے وقت شور مچاؤ تاکہ تم غالب آجاؤ۔۱۳ قرآن مجید کو اس یقین کے ساتھ پڑھنا چاہیئے کہ اس کے اندر معارف اور علوم کے غیر محدود خزانے ہیں اور یہ شفَاءُ لِمَا فِي الصُّدُورِ (یونس : ٥٨) کا مصداق ہے اور فتنوں سے بچنے کا ایک بھاری ذریعہ ہے۔حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ جبرائیل علیہ السلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وستم کے پاس آئے اور فرمایا کہ عنقریب بہت سے فتنے پیدا ہوں گے۔دریافت کیا گیا ان فتنوں سے خلاصی کی کیا صورت ہوگی اے جبرائیل۔فرمایا فتنوں سے خلاصی کی صورت کتاب اللہ ہے۔۱۴۔قرآن مجید کی تلاوت کرتے وقت اگر سجدہ کی آیات آجائیں تو خواہ انسان کھڑا