آداب حیات

by Other Authors

Page 209 of 287

آداب حیات — Page 209

۲۰۹ آپس میں ایک دوسر سے ملتے وقت بھی السلام علیکم کے الفاظ کہنے چاہئیں۔آداب وغیرہ کے الفاظ استعمال نہیں کرنے چاہیں۔کیونکہ شریعت نے سلام کو ایک اسلامی شعار قرار دیا ہے۔سب سے پہلی دعا اور تحفہ جو بندے کو اپنے رب کی ملاقات کے وقت حاصل ہوگا وہ یہی سلام " کا تحفہ ہے۔احادیث میں آتا ہے کہ حضرت جبرئیل علیہ السلام جب حضور صل اللہ علیہ ستم کے پاس آتے تو آپ کو سلام کہنے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کو دیکھ کر سلام کہتے۔سی بن جعفر، عبد الرزاق، معمر، همام ، حضرت ابو ہر نبی کرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں۔آپ نے فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کو پیدا کیا تو کہا کہ جاؤ اور ملائکہ کی اس جماعت کو جو میٹھی ہے سلام کرو اور سنو کہ وہ کیا جواب دیتے ہیں۔یہی تمہارا اور تمہاری اولاد کا سلام ہو گا۔چنانچہ انہوں نے کہا۔اسلام علیکم -4 نے کہا۔السلام علیکم درحمہ اللہ ان فرشتوں نے لفظ رحمہ اللہ زیادہ کیا (صحیح بخاری شریف مترجم اردو - کتاب الاستبندان ۴۳۵ باب بداء السلام ) سلام کا جواب ضرور دینا چاہیے بلکہ بہتر طور پر اس کا جواب دینا چاہیئے۔بہتر رنگ میں سلام کا جواب دینے سے انسان کی نیکیوں میں اضافہ ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ قران مجید میں فرماتا ہے۔وَإِذَا حُتِيمُ بِتَحِيَّةٍ فَحَدُّوا بِأَحْسَنَ مِنْهَا أُورُدُّرُهَا إِنَّ الله عَلى كُل شي حسينا (سورة النسام (٨) اور جب تمہیں کوئی دُعا دی جائے اسلام کہا جائے) تو تم اس سے اچھی دُعا دو۔یا کم سے کم اسی کو لوٹا دو۔یقیناً اللہ تعالیٰ ہر چیز کا حساب لینے والا ہے۔