آداب حیات

by Other Authors

Page 207 of 287

آداب حیات — Page 207

ہے۔احادیث میں آتا ہے۔ربعی بن خراش سے روایت ہے بنی عامر کے ایک شخص نے بیان کیا کہ اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملنا چاہا۔آپ اس وقت گھر میں تھے۔میں نے کہا۔اندر آجاؤں ؟ آپ نے اپنے خادم کو ارشاد فرمایا۔جاؤا سے اذن مانگنا سکھاؤ اسے کہو کہ پہلے السلام علیکم کہے۔پھر کہے کہ میں اندر آجاؤں۔آدمی نے سن لیا اور ایسا ہی کہا۔تو آپ نے اجازت فرمائی رابو داؤد کتاب الادب باب فی الاستیذان) کلدہ بن حنبل سے روایت ہے کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں بیدوں سلام کے اندر چلا گیا۔آپ نے فرمایا واپس چلا جا اور کہہ اسلام علیکم۔کیا میں آجاؤں۔ر ابو داؤد کتاب الادب باب فی الاستیذان) گھرانوں کی طرف سے اگر ایک دفعہ اسلام علیکم کا جواب نہ ملے تو وقفہ وقفہ کے بعد تین دفعہ السلام علیکم کہنا چاہیئے حضرت رسول کریم صلی الہ علیہ وسلم کی یہ عادت تھی کہ آپ جب کسی قوم کے پاس تشریف لاتے تو تین بار سلام کہتے۔د بخاری کتاب الاستیذان باب التسليم والاستیذان ثلاثا )۔اپنے گھروں میں داخل ہوتے وقت بھی گھر والوں کو سلام کہنا چاہیے۔کیونکہ سلام کرنے والے پر اور سلام کئے جانے والوں پر خدا تعالیٰ برکتیں نازل کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے۔فَإذَا دَخَلَم بُيُوتًا فَسَلَمُوا عَلَى أَنفُسِكُم مَحيَّةٌ مِّنْ عِنْدِ " اللهِ مُبرَكَةً طيبة (سورة النور : ۶۲) ترجمہ : پس جب تم گھروں میں داخل ہونے لگو تو اپنے عزیزوں یا دستوں پر