آداب حیات — Page 206
سلام کے معنی امن براستی اور رحمت و برکت کے ہیں۔یہ وہ عظیم الشان دُعا اور تحفہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے جس کا نام اسلام ہے۔جو تمام دنیا کو امن دینے والا اور سلامتیوں کا سرچشمہ ہے حضرت محمد کو عطا کیا۔اور پھر محسن اعظم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو اس قول خیر کو پھیلانے کا حکم دیا تا کہ معاشرہ کی فضا سلامتی کی دعاؤں سے بھر جائے اور روحانی بیماریوں کیبنہ لنبض، حسد سے انسان کو نجات حاصل ہو جائے۔اور مسلمان حقیقی معنوں میں ایک درہ کے نیچے خیر خواہ بن جائیں۔کیونکہ مسلمان کی تعریف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بیان فرمائی ہے۔المسلم من سَلِمَ المُسلِمُونَ بِيَدِهِ وَلِسَانِه از نریزی ابواب الایجان باب ما جاء السلم من سلم المسلمون من لسانه ويده ) کہ مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دو کے مسلمان محفوظ رہیں۔آئیے۔اس زبانی عبادت کو بجا لانے کے لئے قرآنی ارشادات ، سنت نبوی اور احادیث نبویہ کو اسوہ بنائیں۔☑1 دوسروں کے گھروں میں داخل ہونے سے پہلے اسلام علیکم کہ کر اجازت لیتی چاہیئے۔اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے۔يايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَدْخُلُوا بُيُوتًا غَيْرَ بُيُوتِكُمْ حَتَّى سَنَانِسُوا وَتُسَلِّمُوا عَلَى اَهْلِهَا : ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَكُمْ لَعَلَّكُمُ (سورة النور : (۲۸) تذكرُونَ اے مومنو! اپنے گھروں کے سوا دو کر گھروں میں داخل نہ ہوا کرو حب تک کہ اجازت نہ لے تو۔اور داخل ہونے سے پہلے ان گھروں میں لینے والوں کو سلام کرو۔یہ تمہارے لئے اچھا ہو گا اور اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ تم (تنبک باتوں کو ہمیشہ) یاد رکھو گے انتیناس لعینی اجازت حاصل کرنے کے ساتھ اسلام علیکم کہنا بہت ضروری