آداب حیات — Page 205
۲۰۵ سلام کے آداب ہمارا مذہب اسلام جہاں ہمیں جسمانی اور مالی عبادات بجا لانے کا حکم دیا ہے وہاں زبانی عبادت بجا لانے کو بھی بہت بھاری نیکی قرار دیتا ہے اور کہتا ہے کہ نیک بات کہنا بھی صدقہ ہے۔معراج کی رات حضرت جبرائیل" جب حضرت اقدس محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا تعالیٰ کے دربار میں لے کر گئے تو حضرت محمد مصطفے نے اپنے حبیب اور پیارے خدا کی شان و عظمت ان الفاظ میں پیش کی التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّيت کہ اسے میں کہ رب ا نام زبانی عبادتیں تمام یمنی عبادتیں اور تمام مالی باتیں تیرے ہی لئے ہیں۔خدائے ذوالجلال نے آپ کے ان تعریفی کلمات کو قبولیت کا شرف بخشتے ہوئے السلامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا الَّذِي وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ کہ اے نبی ! ہر قسم کی سلامتی تجھے پر ہمیشہ نازل ہوتی ہے۔اور اللہ کی طرف سے رحمتیں اور برکتیں سبھی سمجھ پر نازل ہوتی رہیں۔اللہ تعالی اور پیارے محمد کے درمیان اس مؤدبانہ اور پیار بھری گفتگو کوشن کر حضرت جبرئیل نے یوں شہادت دی۔اَشْهَدُ أن لا إله إلا اللهُ واشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّد عَبدُهُ وَرَسُولُهُ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمدؐ اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔