آداب حیات — Page 18
بہت بھی آہستہ آواز سے قرآن مجید کی بلند ار منه فلا دت کرنے میں بھی اجر و ثواب ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے الجَامِرُ بِالقنواتِ كَالْجَاهِرِ بِالصَّدَقَةِ وَالمُربِ الدوان المُسرِ بِالصَّدَقَة ( ترمذی ابواب فضائل القرآن) قرآن مجید کو بلند آواز سے پڑھنے والا علانیہ طور پر صدقہ دینے والے کی مانند ہوتا ہے اور آہستہ تلاوت کرنے والا خفیہ طور پر سرقہ دینے والے کی مانند ہے - قران مجید کی تلاوت خشوع و خضوع کے ساتھ کرنی چاہئیے۔اللہ تعالیٰ سورۃ زمر میں فرماتا ہے۔اللهُ نَزَّلَ اَحْسَنَ الْحَدِيثِ كِتَابًا مُّتَشَابِها مَّثَانِيَ تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُودُ اللَّذِينَ يَخشَوْنَ هُم ثُمَّ لينُ جُلُورُهُم و قُلُوبُهُمْ إِلَى ذِكرِ اللَّهِ ذَابِكَ هُدَى اللَّهِ يَهْدِي بِهِ مَنْ يَشَاءُ (الزمر : ) ترجمہ : اللہ تعالیٰ وہ ذات ہے جس نے بہتر سے بہتر بات یعنی وہ کتاب اتاری ہے جو متشابہ ہے اور نہایت اعلیٰ ہے۔جو لوگ اپنے رب سے ڈرتے ہیں۔ان کے جموں کے رونگٹے اس کے پڑھنے سے کھڑے ہو جاتے ہیں۔پھر ان کے چھڑے اور دل نرم ہو کر اللہ تعالیٰ کے ذکر کی طرف جھک جاتے ہیں یہ اللہ کی ہدایت ہے وہ جسے چاہتا ہے اس کے ذریعہ سے ہدایت دیتا ہے۔سورۃ انفال میں فرمانا ہے اِنَّمَا المُؤمِنُونَ الَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ اللهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ وَإِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ اينه ذادَتْهُ: ايمانا وَعَلَى بِهِ يَتَوَكُونَ ) (الانفال :۳)