آداب حیات — Page 17
14 لَيْسَ مِنَّا مَن لَّمْ تَغَنَّ بِالْقِرَاتِ دبخاری شریف مشکواة کتاب فضائل القرآن) کہ اس شخص کا ہم سے کوئی تعلق نہیں جو قرآن مجیب کو خوش الحانی سے نہیں پڑھا۔اسی طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے۔حَسَنُوا الْقُرْآنَ بِاصْوَانِكُمْ فَإِنَّ الصَّوْتَ الْحَسَنَ يَزِيدُ القران حنا (مشكوة كتاب فضائل القرآن) اپنی عمدہ آوازوں کے ساتھ قرآن مجید پڑھا کر و۔کیونکہ اچھی اور عمدہ آواز قرآن مجید کو حسن میں بڑھا دیتی ہے۔اسی طرح حضور فرماتے تھے۔ما اذنَ اللهُ لِي مَا آذَنَ لِنَبِي يتغنى بالقرآن ( مشکوۃ کتاب فضائل القرآن) کہ نہ ہی اللہ نے اور نہ ہی بیٹی نے سوائے قرآن مجید کے کسی اور چیز کو نفٹنی سے پڑھنے اور سننے کو پسند فرمایا۔قرآن مجید کی آیات میں انفصال اور مناسبت ہے۔اس لئے قرآن مجید کی تلاوت کرتے وقت ترتیب اور ربط کو مد نظر رکھنا ضروری ہے۔قرآن مجید کے ظاہری الفاظ اور عبارت کی ترتیب بھی خود خدا تعالیٰ نے مقرر فرمائی ہے الفظ قرآن کے معانی بھی چیزوں کو جمع کرتا اور آپس میں ملانا کے ہیں۔لفظ قرآن فعلان" کے وزن پر ہے جو مبالغہ کے معنی دنیا ہے)۔قرآن مجید کو ترتیب کے ساتھ پڑھنا چاہیئے اور اس کا دور مکمل کرنا چاہیئے جیسا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم پڑھتے تھے اور قرآن مجید کا دور مکمل فرماتے تھے۔( مشکواة کتاب فضائل القرآن) - قرآن مجید کی تلاوت درمیانی آواز میں کرنی چاہیئے۔نہ بہت بلند آواز سے اورنہ