آداب حیات

by Other Authors

Page 185 of 287

آداب حیات — Page 185

۱۸۵ اثر پڑتا ہے۔حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے۔اللہ تعالیٰ اس امر کو پسند فرماتا ہے کہ بندہ پر اس کی نعمت کا اثر دکھائی دے (یعنی لباس حسب حیثیت پہنے) ر ترندی ابواب البر والصلة باب ما جاء في الاحسان والعضو) A وَ أَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّتُ۔(سورة الضحى آیت نمبر ۱۳۲) اور تو اپنے رب کی نعمت کا ضرور اظہار کرتا رہ اہی فرمان کے مطابق نعمت کے اثرات کی قدر کرنی چاہیئے۔اور اس نعمت کا اظہار کرنا اپنے رب کے انعامات کا شکر یہ ادا کہتا ہے۔ایک شخص حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گھٹیا لباس میں آئے۔آپ نے پوچھا۔کیا تمہارے پاس مال ہے ؟ اس نے جواب دیا۔ہاں۔اللہ تعالیٰ نے مجھے اونٹ اور بکریاں دیتے ہیں۔فرمایا جب اللہ تعالیٰ نے تجھے مال دیا ہے تو اس مال کے اور اللہ تعالٰی کی نعمت کے اثرات سمجھ پر نظر آنے چاہئیں۔ا ترندی ابواب البر والصلة باب ماجاء في الاحسان والعفو) حضرت عمرہ کا بھی ایک قول ہے کہ جب خدا نے تمہیں کشائش دی ہے تو اپنے پر کشائش ظاہر کر د ر موطا کتاب الجامع باب ما جاء في لبس الثياب)۔سفر میں بھی لباس کی درستگی کا خیال رکھنا چاہیے۔ایک سفر میں حضور صلی اللہ علیہ دستم کی نظر ایک خادم پر پڑی جس کے بدن پر پھٹا ہوا لباس تھا۔آپ نے ایک ساتھی سے پوچھا کہ کیا اس کے پاس اور لباس نہیں۔جواب ملا ہے۔آپ نے خادم کو حکم دیا کہ اچھے کپڑے پسند (موطا کتاب الجامع باب ما جاء في لبس الثياب) آپ کا ارشاد ہے کہ تم اپنے بھائیوں کے پاس جاتے ہو تو اپنا سامان سفر اور پوشاک درست کرد۔تاکہ تم معروز نظر آئی کیونکہ للہ تعالی کو خش اور نخش ربے حیائی ناپسند