آداب حیات — Page 177
166 سے پڑھ کر گھر میں چلے آتے اور یہاں چار رکعتیں پڑھ کر خواب راحت فرماتے۔وضو کا پانی اور مسواک سرہانے رکھ دی جاتی سو کر اٹھتے پہلے مسواک فرماتے۔رستن ابو داؤد باب في صلاة الليل - كتاب الصلوة ) حضرت حذیفہ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب نیند سے اُٹھتے تو اپنے منہ میں مسواک کرتے۔(مسلم کتاب الطهارة باب السواك) 14 - صبح اٹھ کر بسم اللہ الر حمن الرحیم کہ کر وضو کرنا چاہیئے۔حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسواک کے بعد وضو فرمایا کرتے تھے۔وضو کے پانی میں ہاتھ ڈالنے سے پہلے اپنے ہاتھوں کو دھونا چاہیے۔حدیث میں آتا ہے کہ جب کوئی تم میں سے اپنی نیند سے بیدار ہو تو وضو کے پانی میں ہاتھ ڈالنے سے پہلے اپنے ہاتھوں کو دھوئے کیونکہ تم میں سے کوئی نہیں جانتا کہ رات کو اس کا ہاتھ کہاں پھرتا رہا ہے تجرید بخاری ص ۶۲ حصہ اول) ہ صبح کے وقت اٹھ کر وضو کے بعد نماز پڑھنی چاہیے۔ان قران الفجر كان مشهوڈا (سورۃ بنی اسرائیل : 29) کے محکم میں صبح کی نمازہ کی فرضیت کا ذکر ہے۔احادیث میں آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ صبح کی نمانہ کے وقت دن کے فرشتے آتے ہیں اور رات کے فرشتے چلے جاتے ہیں۔وہ فرشتے جب خدا کے پاس جاتے ہیں تو دریافت کرنے پر کہتے ہیں کہ جب ہم دنیا میں گئے تو تیرے بندوں کو نماز پڑھتے ہی دیکھا اور واپس آئے تو نماز پڑھتے ہی چھوڑ کر آئے ہیں۔بخاری کتاب مواقيت الصلوة باب فضل صلواة الحصر)