آداب حیات — Page 175
160 اللہ تعالے نے قرآن مجید میں نماز تہجد کی فضیلیت سورۃ مزمل ہیں۔یوں بیان فرمائی ہے۔ان ناشئة اللَّيْلِ هِيَ أَشَدُ وَلا وَ أَقْوَهُ قِبْلاط ) سورة المزمل : 6) بے شک رات کے وقت اٹھنا نفس کو خوب زیر کرتا ہے اور دعا بھی ٹھیک دل سے نکلتی ہے۔رسول کریم ملی علیہمام نے فرمایا کہ دل تعالی ہر رات کو جب اس کا آخری تہائی حصہ رہ جاتا ہے سب سے پہلے آسمان پر اُترتا ہے اور کہتا ہے کہ کون مجھ سے دُعا مانگتا ہے تاکہ میں اس کی دُعا قبول کروں۔کون مجھ سے سوال کرتا ہے کہ میں اض کا سوال پورا کروں۔کون مجھ سے بخشش چاہتا ہے کہ میں اس کے گناہ معاف کردوں۔ترندی ابواب الصلوۃ باب نزول الرتب تبارك و تعالى الى السماء الدنيا) ایک اور موقع پر حضور نے فرمایا کہ ہر رات ایک گھڑی ایسی آتی ہے کہ جس میں اس کا بندہ اسی سے دینی و دنیا دی یا جس قسم کی بھلائی مانگے۔اللہ تعالے اس کو دے دیتا ہے۔( احمد بن خلیل جلد ۴ ص حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ پہلی رات سوتے تھے اور آخر رات میں اُٹھ کہ نماز تہجد ادا کرتے تھے۔حضرت ابن عباس کی روایت ہے کہ آدھی رات کے بعد آپ اٹھتے تھے۔اسنن ابو داؤد کتاب الصلوۃ باب في صلوة الليل) حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم گیارہ رکعت نماز رات کو پڑھتے تھے۔سجدہ اس قدر لمبا ہوتا جتنے میں کوئی تمہارا پچاس آیتیں ہی ہے۔اور دو رکعت فجر کی نماز سے پہلے پڑھتے پھر دائیں کروٹ پر لیٹ جاتے یہاں تک کہ نماز کے لئے بلانے والا آتا۔بخاری کتاب التهجد باب طول السجود فی قیام البیلی)