آداب حیات — Page 162
۱۹۲ ایک نشانی آپکے ہاتھوں میں تھما دی ہے کہ اس کسوٹی پر اپنی اندرونی حالتوں کا جائزہ لینا ایک فرضی بات نہیں رہی بلکہ ایک یقینی حقیقت بن چکا ہے پس جس حد تک ہم اس کسوئی کے ظاہر کردہ نتیجے کی رو سے ناکام ہو رہے ہیں اس حد تک ہیں اپنی فکر کرنی چاہئے یہ کسوٹی وہ ہے جو جھوٹ نہیں بولتی۔یہ دیکھیں کہ کیا غیبت سے آپ کو مزا آتا ہے پس اپنے ذوق درست کریں تو پھر آپ کو خدا سے محبت ہو گی۔اپنے ذوق درست کریں پھر آپ کو رسول سے محبت ہو گی۔اپنے فوق درست کریں تب گناہوں سے دوری ہو سکتی ہے اور نیکیوں سے پیار ہو سکتا ہے ورنہ نہیں ہو سکتا۔پس غیبت کے حوالے سے میں اگلا آپ سے تقاضا یہ کر سکتا ہوں کہ اپنے دل کا یہ جائزہ لیں کہ آپ کو غیبت میں کتنا مزا آکرتا ہے۔اگر ایک دم یہ نہیں چھپتی منہ سے اور رفتہ رفتہ جائزہ لیں تو آپ کے دل میں اس کا ذوق شوق کم ہوتا چلا جارہا ہے کہ نہیں۔اگر کم ہو رہا ہے تو شکر ہے آپ بچ رہے ہیں۔آپ روبہ صحت ہیں اگر زور لگا کر نصیحت سن کر آپ کہتے ہیں کہ میں نے غیبت نہیں کرتی اور پھر آپ کرتے ہیں اور مزا اتنا ہی آتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ آپ کی اصلاح کوئی نہیں ہوئی۔زبردستی تعلق کاٹنے کی کوشش کی گئی ہے۔اور جو طبیعی رحجانات ہیں ان کے رستے زبر دستی بند نہیں ہوا کرتے۔کچھ دیر تک ہوں گے پھر کھل جاتے ہیں اور پہلے سے بڑھ کر بعض دفعہ بدیوں کا سیلاب پھوٹ پڑتا ہے۔اس لئے غیبت کے معاملے کو اہمیت دیں اور اس کو گہرائی سے دیکھیں جس طرح میں نے آپ کے سامنے اس کو کھول کر بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔اور یقین کریں کہ اگر ہم غیبت سے مبرا ہو جائیں بحیثیت جماعت تو ہمارا نظام بھی محفوظ ہو جائے گا۔ہمارے معاشرتی تعلقات بھی محفوظ ہو جائیں گے۔ہمارے اندر جیتنی رخنہ پیدا کرنے والی باتیں ہیں۔