آداب حیات — Page 161
ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے فرمایا تمہیں معلوم ہے کہ غیبت کیا ہے۔صحابہ رضوان اللہ علیہم نے عرض کیا۔اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔آپ نے فرمایا اپنے بھائی کا اس کی پیچھے اس رنگ میں ذکر کرنا جسے وہ پسند نہیں کرتا۔عرض کیا گیا اگر وہ بات جو کہی گئی ہے وہ سچ ہو اور میرے بھائی میں وہ موجود ہو تب بھی یہ غیبت ہو گی۔آپ نے فرمایا اگر وہ عیب اس میں پایا جاتا ہے جس کا تو نے اس کی پیٹھ پیچھے ذکر کیا ہے تو یہ غیب ہے۔اور اگر وہ بات جو تو نے کہی ہے وہ اس میں پائی ہی نہیں جاتی تو یہ بہتان ہے۔جو اس سے بھی بڑا گناہ ہے۔بہتان تراشی معصوم پر تو ایسا سخت گناہ ہے کہ قرآن کریم نے اس کی بہت سخت سزا بیان فرمائی ہے۔اللہ تعالیٰ کی شدید ناراضگی کا اظہار فرمایا ہے۔تو دونوں صورتوں میں جواز کوئی نہیں رہتا اور سچ ہے تو غیبت ہے اگر جھوٹ ہے تو بہتان جو اس سے بھی زیادہ بڑا گند ہے۔اگر پیچ ہے تو غیبت ہے ان معنوں میں کہ بھائی مر چکا اور مرے ہوئے بھائی کو ڈیفینس کا موقع نہیں دیا گیا۔اس کی عدم موجودگی میں اس پر حملہ کیا گیا۔گویا اس کا گوشت کھایا گیا اور اس کے مزے اڑائے گئے۔اور بہتان کا مطلب ہے کسی کو قتل کر دنیا یعنی روحانی دنیا میں بہتان قتل کے مشابہ ہے۔تو یہ تو مرور MURDER (قتل) کا گناہ ہے۔جو مرے ہوئے کا گوشت کھانے سے زیادہ کر وہ تو نہیں مگر زیادہ بڑا ظلم ضرور ہے اور زیادہ قابل مواخذہ ہے۔اس کسوٹی پر اپنی اندرونی حالتوں کا جائزہ لیں جب تک آپ کا ذوق درست نہیں ہوتا اور خدا کی وہ محبت دل میں پیدا نہیں ہوتی اور وہ نظر آپ کو عطا نہیں ہوتی جس نظر سے خدا اپنے بندوں کو دیکھتا ہے۔اس وقت تک آپ کو پتہ ہی نہیں لگے گا کہ آپ غیبت کرتے ہیں تو اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھا رہے ہیں اور اس سے کراہت کا نہ ہونا آپ کے بگڑے ہوئے ذوق کی نشانی ہے پس اتنی کھلی کھلی۔