آداب حیات — Page 116
ن کا قاعدہ تھا کہ صلی الہ علیہ وسلم سے بہت کم مسائل پوچھتے تھے۔اور جب کوئی نبی حضور سے بے محابا سوال کرنا تھا تو متعجب ہوتے تھے۔۲۰ مجلس میں کسی بھائی کے عیوب نہیں بنانے چاہئیں ، کیونکہ خدائے ستار اس بات کو نا پسند فرماتا ہے۔اگر کسی بھائی میں کوئی عیب پایا جاتا ہے تو وفاداری اسی میں ہے اور اس کے ساتھ محبت کا تقاضا یہی ہے کہ نہایت احتیاط کے ساتھ خلوت میں جاکر اس کے عیوب سے اسے مطلع کرنا چاہیئے۔اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے إِنَّ الَّذِيْنَ يُحِبُّونَ أَن تَشِيعَ الْفَاحِشَةُ فِي الَّذِيْنَ آمَنُوا لَهُمْ عَذَابٌ اليم في الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ (سورة النور آیت (۲) جو لوگ پسند کرتے ہیں کہ ایمان والوں میں بدکاری کا چرچا ہو۔ان کے لئے دنیا اور آخرت میں عذاب متقدّر ہے۔حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔کوئی بندہ کسی بندے کی پردہ پولنی نہیں کرتا مگر اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی پردہ پوشی کرے گا۔(مسلم کتاب البر والصلة والادب باب بشارة من سنتر اللہ تعالی علیہ في الدنيا بأن يشر عليه في الاخرة) ۰۲۱ مجالس میں دقیق مباحث جنس کی تہہ تک عوام الناس نہ پہنچ سکیں نہیں کرنے چاہئیں۔انحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مشکل مسائل اُٹھا نے سے منع فرمایا ہے (شرح العین) حضور اس بات کو نا پسند فرماتے تھے۔چنانچہ ایک روز صحابیہ کی مجلس میں مسئلہ تقدیر پر گفتگو ہورہی تھی۔آپ نے سُنا تو مجرے سے نکل آئے۔آپ کا چہرہ مبارک اس قدر سُرخ ہوگیا تھا گویا عارض مبارک پر کسی نے انار کے دانے نچوڑ دیئے ہیں۔آپ نے صحابہ