آداب حیات — Page 104
۱۰۴ میں داخل ہو جائے اور جب وہ مسجد میں داخل ہو جاتا ہے۔تو نماز میں سمجھا جاتا ہے جیب یک که نماز اسے روکے اور فرشتے اس کے لئے دعا کرتے رہتے ہیں۔جب تک کہ وہ اس مقام میں رہے۔جہاں نماز پڑھتا ہے۔فرشتے یوں دعا کرتے ہیں۔اَللهُمَّ اعْمَلَهُ اللَّهُوَ ارْحَيْهُ اے اللہ اس کو بخش دے اے اللہ اس پر رحم کر۔یہ دعا اس وقت تک رہتی ہے جب تک کہ اس کا وضو نہ ٹوٹے۔دستجرید بخاری حصہ اول ص ۱۲) گویا مساجد میں جانے اور نماز ادا کرنے سے انسان کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں اور وہ ملائکہ کی دعاؤں سے حصہ پاتا ہے۔۱۹ مساجد میں صف بندی کا خیال رکھنا چاہیئے اور نماز ادا کرنے کے وقت صفوں کو ضرور درست کرنا چاہیئے کیونکہ صنفوں کی درستی نماز کی تکمیل کا ایک ضروری جزو ہے۔حضرت عمان میں بیٹر کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی الہ علیہ وسلم نے فرمایا۔تم اپنی صفوں کو بابر کہ لو۔ورنہ اللہ تمہارے چہرے میں تغیر کرے گا۔ا تجرید بخاری حصہ اول ص ۱۷۲) حضرت انس سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی الہ علیہ وسلم نے فرمایا۔صفوں کو درست کردہ میں تمہیں اپنی پیٹھ کے پیچھے سے بھی دیکھتا ہوں۔دستجرید بخاری حصہ اول ص ۱۷۲) حضرت ابومسعود کہتے ہیں کہ رسول خدا صلی الہ علیہ وسلم ہمارے کندھوں پر ہاتھ پھیرتے اور فرماتے۔برابر ہو جاؤ۔اور جدا جدا مت ہو کہ تمہارے دل حدا جدا ہو جائیں گے۔ا مسلم كتاب الصلوۃ باب تسوية الصفوف دا قامتها و فضل الاول فالاول منها ) آپ فرمایا کرتے تھے جو صف کو ملائے گا۔اس کو اللہ تعالے ملائے گا اور توصف -