آداب حیات — Page 88
AA لگانا ضروری ہے۔تجرید بخاری حقه اول مش ۱۹) جمعہ کے دن خوشیونگا کر مسجد میں جانا چاہیئے۔یہ سنت ہے۔۔جمعہ کے دن صاف ستھرے کپڑے پہنے چاہئیں۔یہ سنت ہے۔حدیث میں آتا حضرت یحیی بن سعید کہتے ہیں کہ آنحضرت نے فرمایا تم میں سے کسی پر کیا حرج ہے۔کہ وہ اپنے کام کاج کے کپڑوں کے علاوہ دو کپڑے جمعہ کے لئے بنائے۔(موطا كتاب الصلوۃ باب البیته و تخطی الرقاب و استقبال الامام يوم الجمعه) امام جب خطبہ دے تو خاموشی کے ساتھ خطبہ سننا چاہیئے۔البتہ امام اگر کوئی -> بات پوچھے تو جواب دینا چاہئیے۔خطبہ کے دوران بات نہیں کرنی چاہیئے۔اور اگر کسی کو خاموش کرانا ہو تو اشارہ کے ساتھ چُپ کروایا جائے۔اور خطبہ کے وقت کنکریوں اور تنکوں سے بھی نہیں کھیلنا چاہیئے۔کیونکہ خطبہ بھی نماز کا ایک حصہ ہوتا ہے۔ایک اور حدیث شریف میں آداب جمیعہ کا بیان یوں آتا ہے۔حضرت مسلمان فارسی کہتے ہیں کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔جوشخص جمعہ کے دن غسل کرے اور جس قدر اس کے امکان میں ہو طہارت کر کے اپنا تیل لگائے یا اپنے گھر کی خوشبو استعمال کیے اور پھر نماز جمعہ کے لئے نکلے اور ایسے دو آدمیوں کے کے درمیان (جو مسجد کے اندر بیٹھے ہوں) تفریق نہ کرے اور جس قدر اس کی قسمت ہو نماز پڑھے بعد ازاں جس وقت امام خطبہ پڑھنے لگے تو خاموش رہے۔پس اس کے وہ گناہ ہو اس جمعہ اور دوکر جمعہ کے درمیان ہوئے ہیں بخش دیئے جائیں گے۔تجرید بخاری حقه اول ۱۹۹) اور ایک روایت میں ہے اور تین دن اور بھی زیادہ۔اور جو خطبہ کے دقت کنکریوں سے کھیلے وہ بھی بعد کا مرتکب ہوا۔امسلم کتاب الجمعة باب فضل من استمع وانصت للخطية)