آداب حیات — Page 35
۳۵ رسول کریم صلی الہ علیہ وسلم کی اطاعت و فرمانبرداری کرنے کو اللہ تعالی کی اطاعت کرنا کہا گیا ہے۔من يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ الله (النساء : (٨) جو اس رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم) کی اطاعت کرے گا پس گویا اس نے اللہ تعالٰی کی اطاعت کی۔حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری امت کے سب لوگ جنت میں داخل ہوں گے۔بجز انکے جنہوں نے انکار کیا۔عرض کیا گیا۔یا رسول اللہ ! وہ کون لوگ ہیں جنہوں نے انکار کیا۔فرمایا۔جس نے میری پیروی کی۔جنت میں داخل ہوا۔اور میں نے میری نافرمانی کی۔اس نے ابھی کیا (انکار کیا) د بخاری کتاب الاعتصام باب الاقتدا و لبن الرسول) ۴۔انبیاء کے مقام ادب کو شناخت کیا جائے، یہ کہ سر نی راستباز تھا۔ہر بنی پر سچا ایمان لایا جائے۔جیسا کہ سورۃ البقرہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔قولُوا آمَنَّا بِاللهِ وَمَا اُنْزِلَ إِلَيْنَا وَمَا أُنْزِلَ إِلَى إِبْرَاهِيمَ و إسمعيل وإسحقَ وَيَعْقُوبَ وَالْأَسْبَاطِ وَمَا أُوتِي مُوسَى وَعِيْنى وَمَا أُوتِي النَّبِيُّونَ مِنْ تَرَ بهِمْ ؟ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْهُمْ وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ۔(البقرة : ۱۳۷) تم ہو۔ہم اللہ پر درجو کچھ ہماری طرف نازل کیا گیا اور جوکچھ ابراہیم، اسماعیل اور اسحاق اور یعقوب اور ان کی اولاد پر اتارا گیا اور جو موٹی اور عیسی کو اور دے نیوں کو ان کے رب کی طرف سے دیا گیا ہم اس پر ایمان لاتے ہیں۔ہم ان میں سے کسی ایک کے درمیان فرق نہیں کرتے اور ہم اُسی کے فرمانبردار ہیں۔پھر ارشاد ہے۔