آداب حیات

by Other Authors

Page 27 of 287

آداب حیات — Page 27

اس کا بدلہ (دنیا میں طلب نہ کردے۔کیونکہ آخرت میں اس کے لئے بڑا اعبر ہے۔۲ قرآن مجید کو عزت واحترام کے ساتھ بلند جگہ پر رکھنا چاہیئے تاکہ آتے بہتے ہوئے اس کی طرف پشت نہ ہو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے يَا أَهْلَ الْقُوَّانِ لا تَتَوَسا، والقرآن البیہقی فی شعب الایمان جلد نمبر ٣ من ۳۵ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت اے اہل قرآن ! تم قرآن مجید کو تکیہ نہ نہار۔یعنی اپنے سروں کے نیچے نہ رکھو۔ہم پر لازم ہے کہ ہم قرآنی ارشاد وَمَنْ يُعْظِمْ شَعَائِرَ اللَّهِ فَايْهَا مِنْ تَقُوى الْقُلُوبِ والحج : ٣٣ کے مطابق قران مجید کی عزت و تکریم کریں۔- رکوع اور سجود میں قرآنی آیات کی تلاوت نہیں کرنی چاہیے بلکہ عبودیت کے نک میں رنگین ہو کہ اپنی زبان میں دعائیں کرنی چاہئیں۔سجدہ اور رکوع فروتی کا مقام ہے اور قرآن مجید بزرگ و برتر اور خدائے ذوالجلال والاکرام کا کلام ہے اور خدا تعالیٰ کا کلام عظمت کا تقاضا کرتا ہے۔اس لئے نماز میں ہمیشہ کھڑے ہو کر پڑھا جاتا ہے حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں الا و إني نهيت ان اقرأ القرآنَ رَ العَا اَرُ سَاجِدُ أَفَا مَّا الركوع فَعَظْمُوا فيه الرتِ وَا مَّا السجودُ فَاجْتَهِدُوا فِي الدُّعَاءِ فَقَمَن ان يُسْتَجَابُ لَكُم (مشكوة كتاب الصلوة باب الركوع) سنوا کہ میں منع کیا گیا ہوں اس سے کہ پڑھوں قرآن حالت رکوع یا سجدے ہیں۔لیکن رکوع میں پر وردگار کی عظمت بیان کر دا در سجدہ میں دعا کی بہت کوشش کرد۔پس سزا وار ہے کہ قبول کی جائے تم سے۔۲۳۔قبروں پر بیٹھے کہ قرآن مجید کی تلاوت نہیں کرنی چاہیئے اور احادیث سے بھی یہ