آداب حیات — Page 20
۲۰ کیا وہ قرآن پر غور نہیں کرتے۔کیا ان کے دلوں پر ایسے نفل ہیں جو ان کے دلوں کی پیداوار میں نیز فرمانا ہے انا امر ان قرانا عربياً لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ (سورة يوسف (٣) یقینا ہم نے قرآن مجید کو جو اپنے مطالب کو خوب واضح کرنے والا سے اُتارا ہے تاکہ تم عقل اور تدبر سے کام لو۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے۔وتَدَبَّرُوا مَا فِيْهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ اور تم اس کے معانی پر تدبر کرو تاکہ تم کامیابی حاصل کر سکو۔قرآن مجید کو قوالوں اور گولیوں کی طرز پر نہیں پڑھنا چاہیئے۔اسی طرح قرآن مجید کو موسیقی کے ساتھ پڑھنا اور شعروں اور غزلوں کی طرح پڑھنا بھی تحسن نہیں ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ناپسند فرمایا ہے۔آپ فرماتے تھے اروا الفقر أن بِالعُونِ الْعَرَبِ وَاصْوَاتِهَا وَإِيَّاكُمْ وَتُحُونَ اِهْلِ العِشقِ وَلْحُوْنَ اَهْلِ الكِتابِينَ۔وَسَجِنِي بَعْدِى قَوْم يُرْجِعُون بِالْقُرانِ تَرْجِيعَ العِنَاءِ وَ التَّوحِ لَا يُجَاوِةُ حَنَا جَرَهُمْ مَفْتُونَةٌ قلُوبُهُمْ وَقُلُوبُ الَّذِينَ يُعجبُهُمْ شَانُهُمْ (مشكوة كتاب فضائل القرآن) تم عربوں کے طریقہ اور ان کے لحن اور لہجہ پر قرآن مجید پڑھا کرو اور ان کی آوازوں کو اختیار کردہ تم عشاق ( غزل خواں) اور اہل کتب کا لحن اور لبہ اختیار کرنے سے بجو میں کے بعد ایک ایسی قوم آئے گی جو راگ اور گانے والوں اور نوحہ کرنے والوں کی طرح قرآن مجید بنا سنوار کر پڑھیں گے مگر قرآن مجید ان کی تصیلوں سے آگے نہیں اترے گا مراد یہ ہے کہ ان کے دلوں پر اثر نہیں کرے گا۔