آداب حیات — Page 19
مومن تو صرف رہی ہیں کہ جب ان کے سامنے اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا جائے تو ان کے دل ڈر جاتے ہیں اور جب ان کے سامنے اس کی آیات پڑھی جاتی ہیں تو وہ ان کے ایمان کو بڑھا دیتی ہیں اور وہ اپنے رب پر بھردہ کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ سورۃ الحدید میں فرماتا ہے۔السريان للذينَ آمَنُوا أَنْ تَخْشَعَ قُلُوبُهُمْ لِذِكْرِ اللهِ وَ مَا نَزَلَ مِنَ الْحَقِّ۔الحديد : ۱۷) کیا ابھی وقت نہیں آیا کہ مومنوں کے دل اللہ تعالیٰ کے ذکر کے لئے اور اس کلام کے لئے جو جو کے ساتھ اترا ہے جھک جائیں۔حضرت طاؤس سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ اتي النَّاسِ اَحْسَنُ صَوْنَا الْقُرْآنِ وَاَحْسَنُ قِراةَ قَالَ إِذَا سَمِعْتَهُ يسرا أربتَ أَنَّهُ يَخْشَى الله ( مشکواة کتاب فضائل القرآن) کہ کون سا شخص اچھی آواز سے قرآن مجید پر فضا ہے اور کس کی قرات اچھی ہوتی ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں فرمایا کہ جب تو اس سے قرآن مجید نے تو تو معلوم کرے کہ وہ اس جنگ میں تلاوت کر رہا ہے کہ اس کا دل خدا تعالیٰ سے ڈرتا ہے۔حضرت ابو بکر صدیق کے متعلق بھی آتا ہے کہ آپ نہایت رقت اور خشیت کے ساتھ قرآن مجید پڑھا کرتے تھے اور آپ کی آنکھیں آنسو بہا رہی ہوتی تھیں۔ا بنجاری مناقب انصار باب المجرت ص۵۵۳) -۱۰ قران مجید کو همیشه سوزد گداز اور حضور قلب سے پڑھنا چاہیئے۔قرآن مجید کو غور وفکر اور تدبر کے ساتھ پڑھنا چاہیئے تاکہ اس کے معانی اور مطالعہ سے واقفیت ہو سکے اور اوامر و نواہی پر عمل کیا جاسکے۔اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے۔أفلا يتدبرُونَ الْفُوَانَ أَمْ عَلَى قُلُوبِ اثْفَالُهَا ) سورة محمد : ٢٥)