آداب حیات

by Other Authors

Page 138 of 287

آداب حیات — Page 138

ہے۔حدیث میں آتا ہے کہ رسول کریم نے فرمایا۔إِنَّ اللهَ يَبْغِضُ الفَاحِشَ الْبَدِي ( ترمذی ابواب البر والصلة باب ما جاء فی حسن الخلق کہ یقینا اللہ تعالی برا جانتا ہے ہے جبار اور گندہ زبان آدمی کو فحش کلامی سے بچنا چاہیے کیونکہ فحش کلام اور بے ہودہ گوئی سے اخلاق میں بے ہودگی پیدا ہوتی ہے۔جسے نہ صرف لوگ ناپسند کرتے ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک بھی وہ شخص مبغوض ہو جاتا ہے۔حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا بادی کے اسلام کی خوبی یہ ہے کہ دو بے ہودہ کلام ترک کردے۔ترندی ابواب الزهد باب ما جاء من تكلم بكلمة الناس) پس بخش گوئی سے بچنا چاہیئے اور کثرت سے استغفار کرنا چاہئیے۔آنحضرت کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میری زبان پر فخش بہت چڑھا ہوا ہے۔آپ نے ارشاد فرمایا کہ تو استغفار کیوں نہیں کرتا۔این ناحیه ابواب الادب باب الاستغفار ) زبان کا سارے اخلاق پر گہرا اثر پڑتا ہے۔اس لئے مسلمان پر واجب ہے کہ وہ سخت زبانی نہ کرے۔بڑے نام سے نہ پکارے اور نہ ہی کسی پر لعنت کرے گالی گلوچ نے۔کیونکہ یہ وہ بد خلقی ہے جو انسان کے ایمان کو غارت کر دیتی ہے۔حدیث میں آتا ہے کہ مومن پر لعنت کرنا اس کے قتل کرنے کے مترادف ہے۔بنجاری کتاب الادب باب ما مینی من السباب واللعن) اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں مومن بندوں کی صفت یہ بیان فرمائی ہے۔وَالَّذِينَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ (سورۃ المومنون (۴)