آداب حیات — Page 109
1۔9 اسے مومنو! جب تم سے کہا جائے کہ مجالس میں کھل کر بیٹھورا اور دوسروں کو جگہ (و) تو کھل کر بیٹھ جایا کرو۔الہ بھی تمہارے لئے کشادگی کے سامان پیدا کرے گا۔معلم اخلاق حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے۔16 خَيرُ المَجَالِي اوسعها " د ابو داؤد کتاب الادب باب فی المجلوس بالطرقات) بہترین مجالس وہ ہیں جو کشادہ اور فراخ ہوں۔اور لوگ کھل کر بیٹھ سکیں۔اور بوقت ضرورت آنے والوں کو جگہ دیں۔۔اور جب مجلس میں سے کسی شخص کو چلے جانے کے لئے کہا جائے تو اسے فورا اُٹھ کر چلے جانا چاہیے، کیونکہ اصل چیز اطاعت اور فرمانبرداری ہے۔اور اسلام کے معنی بھی ہیں ہیں کہ فرمانبرداری کی روح کو اختیار کیا جائے۔اللہ تعالیٰ سورۃ المجادلہ میں فرماتا ہے۔اذا قيل انتروا فَانتُذُوا مَرفَعَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ و الَّذِينَ أوتُوا العِلْمَ دَرَجَتِ ) سورة المجادلة : (۱۲) اور جب تمہیں کہا جائے کہ اُٹھ جاؤ تو اُٹھ جایا کرو۔اللہ ان کو جو کہ مومن ہیں اور جو علم دیئے گئے ہیں درجات میں بڑھائے گا۔مجلس میں داخل ہوتے ہوئے حاضرین کو اسلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ کہنا چاہئے۔اسی طرح مجلس سے باہر جاتے ہوئے بھی اسلام علیکم ورحمتہ الہ و برکاتہ کہنا چاہیئے۔حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔جب تم میں سے کوئی کسی مجلس میں پہنچے توچاہیئے کہ سلام کے اگر میٹھنا ہو تو بیٹھ جائے پھر جب اُٹھے تو چاہیے کہ سلام کہے۔پہلی بار سلام کہنا چھپہلی بار سلام کہنے سے زیادہ تاکید کی بات نہیں۔ابو داود د کتاب الادب باب فی السلام اذا قام من المجلس)