اچھی مائیں ۔ تربیت اولاد کے دس سنہری گُر — Page 4
8 7 اس تعلق میں سب سے پہلے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ مبارک ارشاد میرے سامنے آتا ہے جو آپ نے بیوی کے انتخاب کے تعلق میں مردوں سے مخاطب ہو کر فرمایا ہے۔آپ فرماتے ہیں:- تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ لَا رُبَعٍ لِمَا لِهَا وَلِحَسَبِهَا وَ لِجَمَالِهَا وَلِدِينِهَا فَاظُفُرُ بِذَاتِ الدِّيْنِ تَرِبَتْ يَدَاكَ ( بخاری کتاب النکاح باب اكفاء فی الدین) یعنی بیوی کا انتخاب چار باتوں کی وجہ سے کیا جاتا ہے بعض لوگ مال و دولت کی بناء پر بیوی کا انتخاب کرتے ہیں۔بعض حسب و نسب پر اپنے انتخاب کی بنیاد رکھتے ہیں۔بعض عورت کے حسن و جمال کو دیکھتے ہیں اور بعض دین اور اخلاق کے پہلو کو مقدم کرتے ہیں۔مگر اے مردِ مومن تو اخلاق اور دین کے پہلو کو مقدم کیا کر ورنہ تیرے ہاتھ ہمیشہ خاک آلود رہیں گے۔“ اس لطیف حدیث میں ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ صرف مسلمانوں کے گھروں کی موجودہ خانگی خوشی کی بنیاد قائم فرما دی ہے بلکہ اُن کی آئندہ نسلوں کی بہتری اور بہبودی کے سوال کو بھی ایک مضبوط اور دائمی کڑے کے ساتھ باندھ دیا ہے جو ٹوٹنے کا نام نہیں جانتا۔ظاہر ہے کہ ایک اچھی اور نیک بیوی جو دیندار بھی ہو اور خوش اخلاق بھی ہو کیونکہ دین کے لفظ میں یہ دونوں باتیں شامل ہیں ) صرف اپنے خاوند کے لئے ہی خوشی اور راحت کا موجب نہیں ہوگی بلکہ لازماً اپنی اولاد کی تربیت کے حق میں بھی بہت مبارک ثابت ہو گی اور اس طرح حال اور مستقبل دونوں کی خوشیوں کے مکمل ہونے سے ایسا گھر حقیقتا جنت کا نمونہ بن جائے گا۔یہ خیال کرنا کہ اس حدیث میں تو صرف مرد کے لئے حکم ہے کہ وہ دیندار عورت سے شادی کرے اور عورت کے لئے کوئی حکم نہیں ایک بالکل باطل خیال ہے۔کیونکہ جب مرد کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ وہ نیک بیوی تلاش کرے تو لازماً اس حکم میں یہ ضمنی حکم بھی شامل ہے کہ مسلمان عورتیں بھی نیک اور دیندار بنیں۔کیونکہ اگر دُنیا میں دیندار عورتیں ہوں گی ہی نہیں تو مردوں کو دیندار بیویاں میسر کیسے آئیں گی؟ پس اس حدیث میں دراصل یہ دُہرا حکم شامل ہے کہ :- (1) مسلمان عورتیں دیندار اور با اخلاق بنیں ورنہ کوئی دیندار مرد اُن کے رشتہ پر راضی نہیں ہو گا اور نہ اُن کی آئندہ نسل دیندار بن سکے گی۔(2) مسلمان مرد دیندار اور با اخلاق عورتوں کے ساتھ شادی کریں تا کہ صرف ان کا اپنا گھر جنت کا نمونہ بنے بلکہ اُن کی اولاد کے واسطے بھی دائمی کا جنت کے دروازے کھل جائیں گے۔یہ وہ دُہری غرض ہے جس کے ماتحت ہمارے آقاصلی اللہ علیہ وسلم نے یہ زریں ارشاد جاری فرمایا ہے۔لہذا مردوں اور عورتوں دونوں کو چاہیے کہ اس مبارک ارشاد کو اپنے لئے شمع ہدایت بنا کر دائمی راحت اور دائمی سرور اور دائمی برکت کا ورثہ پانے کی کوشش کریں۔نیک ماں نیک اولاد پیدا کرنے کا بہترین ذریعہ ہے پس اولاد کی تربیت کے تعلق میں پہلی ہدایت اسلام کی یہ ہے کہ مرد دیندار عورتوں کے ساتھ شادی کریں اور ہر ماں خود دیندار بننے کی کوشش کرے کیونکہ بے دین ماں دینی تربیت کی اہلیت نہیں رکھتی۔بیشک قرآن مجید یہ بھی فرماتا ہے کہ يُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَيُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ