اچھی مائیں ۔ تربیت اولاد کے دس سنہری گُر

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 3 of 15

اچھی مائیں ۔ تربیت اولاد کے دس سنہری گُر — Page 3

6 5 بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ اچھی مائیں تربیت اولاد کے دس سنہری گر جیسا کہ ہر شخص جانتا ہے کہ اسلام نے حقوق کے معاملہ میں مرد وعورت کے لئے برابر کا درجہ تسلیم کیا ہے اور واضح الفاظ میں اعلان فرمایا ہے کہ لَهُنَّ مِثْلُ الَّذِى عَلَيْهِنَّ۔یعنی ”مردوں کے ذمہ عورتوں کے اُسی طرح کے حقوق ہیں جس طرح کہ عورتوں کے ذمہ مردوں کے حقوق ہیں۔لیکن حقوق کے معاملہ کو چھوڑ کر جہاں تک اولاد کی ابتدائی تربیت کا سوال ہے عورت کو اپنے فطری قومی اور اپنے جنسی حالات کی وجہ سے مرد کی نسبت بہت زیادہ ذمہ داری کا مقام حاصل ہے۔بے شک کئی جہات سے مرد کی ذمہ داریاں عورت کی ذمہ داریوں کی نسبت بہت زیادہ بھاری ہیں لیکن بچوں کی تربیت کا پہلو اتنا نازک اور اتنا اہم ہے اور اس کا اثر بھی اتنا گہرا اور اتنا وسیع ہے کہ جو عورت اس ذمہ داری کو کامیابی کے ساتھ ادا کرتی ہے اس کا وجود یقیناً قوم کے لئے بہت بڑی عزت اور بہت بڑے فخر کا موجب ہے اور اس جہت سے ہر قدر دان انسان کی عقیدت کے پھول اپنی ماؤں اور بہنوں کے قدموں پر نچھاور ہونے چاہئیں۔عورت رسول خدا کی محبوب ہستی ہے عورت کے اسی مخصوص مقام کی وجہ سے ہمارے آقاصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ:- حُبّبَ إِلَيَّ مِنْ دُنْيَاكُمُ النِّسَاءُ وَالطَّيِّبُ وَجُعِلَتْ قُرَّةُ عَيْنِي فِي الصّلوةِ۔د یعنی اے لوگو ! تمہاری دُنیا کی چیزوں میں سے دو چیزیں مجھے زیادہ محبوب ہیں ایک عورت اور دوسرے خوشبو۔مگر میری آنکھ کی ٹھنڈک نماز میں رکھی گئی ہے۔“ اپنے آقا کے ان الفاظ پر عورت جس قدر بھی فخر کرے اس کا حق ہے۔اور ہم اس فخر میں اس کے ہم نوا ہیں۔مگر ظاہر ہے کہ خدا کی ہر نعمت اپنے ساتھ بعض مخصوص ذمہ داریاں بھی لاتی ہے اور جو عورت نعمت کے پہلو کو تو شوق کے ہاتھوں سے قبول کرتی ہے لیکن اس کے ساتھ لگی ہوئی ذمہ داریوں کے پہلو کی طرف سے غافل رہتی ہے وہ خدا کے حضور ہرگز مقبول نہیں ہو سکتی اور نہ وہ محض نعمت کے پہلو کو حاصل کر کے ملک وقوم کی محسنہ بن سکتی ہے۔پس میں اپنے اس مختصر سے نوٹ میں اپنی بہنوں کو ان کی اُن ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں جو اولاد کی تربیت کے تعلق میں اُن پر عائد ہوتی ہیں تا کہ وہ اچھی مائیں بن کر ایک طرف خدا کی نعمت کی قدر دان بنیں اور دوسری طرف قوم اور جماعت کی آئندہ نسل کو ترقی کے رستہ پر ڈال کر ملک وقوم کی محسنہ بننے کا شرف بھی حاصل کریں۔مسلمان مردوں کی ہمیشہ دیندار عورتوں کے ساتھ شادی کرنی چاہیے