میاں عبدالرحیم صاحب دیانت — Page 83
شادی۔آپس کا حُسنِ سلوک - جُدائی ، صبر ) احمد، کسی عمل و علم کی بناء پر نہیں محض اپنی صفت کریمانہ سے کیا کچھ نہ دیا۔عید مسجد اقصیٰ میں ہوئی۔سارا ہفتہ ضروری وقار عمل کرتا رہا۔پکوڑے بنائے، گلاب جامن پر بچے بہت یاد آئے بچوں کا تقاضا بے چین کرتا رہا۔آپ کی والدہ کو دہی میں بوندیاں ڈال کر بہت پسندیدہ تھیں دن بھر رُلاتی رہیں۔جذبات لا انتہا، رات مشاعرہ ہوا۔عصر کے بعد کھیلیں۔غم غلط کرنے کی پوری کوشش کرتے ہیں۔مگر عید کیا ہو؟ دیکھو میرے بچو سلسلہ اس وقت جن حالات سے گزر رہا ہے اس کو خدا ہی جانتا ہے۔اس وقت سلسلہ سے عشق و محبت یہ تقاضا کرتا ہے کہ مرنے سے پہلے مرجاؤ کسی چیز سے محبت نہ کرو۔صرف الہی سلسلہ سے۔کسی شخص کو ترجیح نہ دو بس خدا کے ہو جاؤ مختصر یہ کہ عید حضور نے نہ پڑھائی اپنے نظر نہ آئے غم ہی غم تھا اس کا ضبط کرنا ایک اور پہاڑ غم۔الحمد للہ دار الامان نصیب تھا۔“ شام زندگی اوائل اپریل 1979ء میں قادیان سے خالہ زاد بہن مکرمہ ناصرہ بیگم کا خط آیا جس سے ابا جان کی شدید علالت کا علم ہوا۔آیا لطیف اولین کوشش کر کے قادیان پہنچیں۔ابا جان بہت کمزور ہو چکے تھے ان کو دیکھ بھال کی ضرورت تھی جبکہ پاکستان سے وہاں جا کر زیادہ دن ٹھہر انہیں جا سکتا تھا۔ایک دن جب حضرت صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحب ابا جان سے ملنے تشریف لائے تو آپانے اُن سے آپ کو علاج کے لیے پاکستان لے جانے کی اجازت لے لی۔ابا جان قادیان چھوڑ نا نہیں چاہتے تھے۔جس مقدس 83