میاں عبدالرحیم صاحب دیانت — Page 68
شادی۔آپس کا حُسنِ سلوک - جُدائی ، صبر ) افریقہ میں تھی پھر آپا کی طرف دیکھ کر کہا کہ میں نے اپنی بیٹی کومشکل میں ڈالا ہے۔انہوں نے تسلی دلائی کہ کوئی بات نہیں بس اللہ کرے آپ ٹھیک ہوجائیں۔مارچ کا مہینہ تھا سب بچوں کے سالانہ امتحان ہورہے تھے۔مگر اس وقت سب اماں جی کے ارد گرد تھے۔صبح کی نماز کے وقت امی کی حالت بگڑ گئی پھر ڈاکٹر لطیف صاحب کو بلا یا اللہ کا شکر ہے کہ وہ جلدی ہی آگئے۔ڈاکٹر صاحب امی کو دیکھ کر نسخہ لکھ رہے تھے کہ امی کی طرف نظر گئی۔تشویش کے ساتھ آگے بڑھے دل کی مالش شروع کی دل میں انجیکشن دیے۔سب اللہ شافی کے حضور گڑ گڑا کر دعائیں کر رہے تھے۔چچا جان مکرم صالح محمد صاحب اور چچا جان مکرم محمد عبد اللہ صاحب کو بھی بلا لیا۔اللہ تعالیٰ کی تقدیر غالب آئی مولیٰ کریم نے ساری تکلیف سے نجات دے دی۔13 / مارچ 1976ء کو صبح ساڑھے سات بجے اچانک امی جان کا دھڑکتا ہوا دل خاموش ہو گیا۔راضی بہ رضا خدا تعالیٰ کے حضور پیش ہو گئیں۔اناللہ وانا الیہ راجعون۔ان دنوں ٹیلی فون مشکل سے ملا کرتا تھا کوشش کے باوجود مجھے کراچی میں اور بھائی جان مجید کو حیدرآباد میں بروقت اطلاع نہ مل سکی۔ربوہ پہنچنے میں کچھ دیر ہوئی شکر ہے آخری دیدار نصیب ہوا۔میرے سامنے میری پیاری امی جان کو اُٹھا کر لے گئے۔یہاں دو تین باتیں لکھتی ہوں جو امی جان کی وفات کے ساتھ اکثر یاد آ جاتی ہیں۔بھائی جان عبد الباسط صاحب نے بتایا تھا کہ امی کہا کرتی تھیں بلکہ وعدہ لیا تھا کہ ان کی 68