میاں عبدالرحیم صاحب دیانت — Page 56
شادی۔آپس کا حُسنِ سلوک - جُدائی ،صبر ناصر صاحب نے یہ سب بھاگ دوڑ دیکھ کر کہا لگتا ہے تمہاری امی کمانڈو ہیں۔کبھی کبھی امی جان جلسہ سالانہ قادیان پر یا ویسے ملنے کے لیے ویزا لگوا کر قادیان جاتیں وہاں ان کا ذوق عبادت دیدنی ہوتا۔بہت خواہش تھی کہ بیت الدعا میں تہجد ادا کریں مگر ہر وقت مردوں کی آمد ورفت کی وجہ سے موقع نہ ملتا۔آپ حضرت صاحبزادہ مرز وسیم احمد کے پاس گئیں کہ عورتوں کے لیے بھی کچھ انتظام ہونا چاہیے۔چنانچہ آپ نے انتظام کروادیا۔ابا جان کہتے تھے اب تک جو خواتین اس سے فائدہ اُٹھا رہی ہیں اس کا اجر امی جان کو ملے گا۔ہماری تعلیم و تربیت کے لیے امی نے گھر کے صحن میں ایک امی سکول بھی کھولا ہوا تھا۔ربوہ میں ابھی بجلی نہیں آئی تھی سورج غروب ہونے کے ساتھ اندھیرے پھیل جاتے۔یہ سکول ہمارے گھر کے کچے صحن میں چاند تاروں کی چھاؤں میں بچھی چارپائیوں پر قائم تھا۔اس کا نصاب سورتیں یاد کرنا، انبیا کرام کی کہانیاں، احمدیت کی سچائی کے دلائل ، بیت بازی ، ناصرات کے کورسز سب کچھ بڑے خوشگوار ماحول میں اس سکول میں پڑھایا جاتا۔آج تک صحن میں چھڑکاؤ کی تازگی۔موتیا کی خوشبو۔کہکشاں کا نظارہ سب امی کی یاد میں شامل ہو جاتے ہیں۔مڑ کر دیکھا جائے تو امی جان نے 35 سال کی عمر سے ساری ذمہ داریاں سنبھالیں اور بفضل الہی کامیابی سے ادا کیں میرے والدین جو ایک دوسرے کو دیکھ کر جیتے تھے مسابقت فی الخیرات کے جذبہ سے زندگی حاصل کرنے لگے۔اگر امی جان میں ایمان و 56