میاں عبدالرحیم صاحب دیانت — Page 46
شادی۔آپس کا حُسنِ سلوک - جُدائی ،صبر رہے جس وقت خط آتا آپ فوراً بھجوا دیتے اور اکثر ایسا ہوا کہ اگر کوئی پاس نہیں ہے تو یہ سوچ کے خود خط دینے کے لیے تشریف لے آتے کہ بچوں کو انتظار ہو گا۔ایک بارا اپنی کمزوری صحت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ اب بات کرنے اور ہلنے کو دل نہیں چاہتا ایک وہ دن تھا کہ تمہاری ڈاک خود پہنچا آیا کرتا تھا۔اللہ الہ کس قدر عظیم ہستی تھی آپ کو دوسروں کے احساسات کا کس قدر خیال تھا۔ایک دفعہ لطیف آپا آپ کی خدمت میں اپنی کسی بہن کے رخصتانہ کی دعا میں شمولیت کی درخواست کرنے کے لیے حاضر ہوئیں۔آپ نے فرمایا کہ میں آؤں گا انشاء اللہ۔آپا نے دوبارہ سے کہا تو نہایت شفقت سے فرمایا: تم کیسی باتیں کرتی ہو میں انشاء اللہ ضرور آؤں گا۔میں تو تمہارا ڈاکیہ بھی رہ چکا ہوں تو کیا آج تمہاری بہن کی شادی پر نہ آؤں گا۔“ 1950ء میں بھی ایک دفعہ آپ ہمارے گھر تشریف لائے۔آپا لطیف سے فرمایا: میں ایک کام سے آیا ہوں۔ہماری بڑی ہمشیرہ سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کو خواب آیا ہے کہ حضرت نواب صاحب مرحوم تشریف لائے ہیں اور کچھ کھانے کی خواہش کی ہے اس لیے انہوں نے آج پلاؤ اور زردہ کی دیگیں پکوائی ہیں وہ تم کو بھجوادی جائیں گی۔مستحقین میں تقسیم کروا دینا۔لیکن اس طرح نہیں کہ لوگ ہاتھوں میں تھالیاں پکڑے ہوئے آکرلیں بلکہ ہر ایک کوٹرے میں رکھ کر دینا۔“ ہم سب بہن بھائیوں کی تعلیم کے حصول میں جماعت کا تعاون رہا جس میں آپ 46