میاں عبدالرحیم صاحب دیانت — Page 40
شادی۔آپس کا حُسنِ سلوک - جُدائی ، صبر ) لو۔مگر دوسری جانب اخلاق ، رحم، شفقت ، متقاضی ہے کہ خوب پیار کیا جائے۔باری تو میرے ساتھ ہی رات بھر سو کے صبح کرتی ہے۔اس جگر پارے کو دونوں بازوؤں سے پکڑ کر دو ایک دفعہ کھلا کر پھر او پر اٹھا کر آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پوچھنا کہ ابا کے پاس جانا ہے اگر یہ اقرار کرے تو وہاں سے چھوڑ دینا کہ اُڑتی اڑاتی میرے پاس پہنچ جائے پھر میں اس کو لفافے میں بند کر کے بھیج دوں گا اگر اس نے واپس جانا چاہا۔میرا یہ خط سن کر خوش ہو تو کہنا ابا کے لئے دعا کرو۔“ ” میری نور نظر میری لخت جگر ! آپ کو الگ اس لئے خط نہیں لکھتا کہ میری رقیق القلب بیٹی اس کو پڑھ بھی سکے گی آپ مجھے یقین دلا دیں کہ آپ خط کو پڑھتے وقت ضبط اور کنٹرول رکھ لیں گی تو انشاء اللہ لکھا کروں گا آپ کو سوار کیا تھا اب تک آپ کے ابا اس دوری کو حسرت بھری نظروں سے دیکھتے ہیں آپ کی آنکھیں بھی آنسو سنبھال نہیں پا رہی تھیں دعا کرتا رہا مولا جلدی ملا دینا جلدی واپس لانا۔“ با جی امتہ الرشید بتاتی ہیں کہ ابا جان کو قرآن کریم حفظ کروانے کا بے حد و حساب شوق تھا ہم بچوں کوکوئی سورت یاد کرنے کو کہتے اور شام کو کام سے آ کر سُنتے صحیح حفظ پر آپ کا چہرہ خوشی سے دمکنے لگتا۔تلفظ، ادائیگی ، حفظ ہر پہلو پر توجہ دیتے اور خوش ہوتے۔انعام بھی دیتے۔ایک دفعہ مجھے آخری پارہ حفظ کرنے کا ارشاد فرمایا اور ساتھ ہی بہت بڑے انعام کا وعدہ کیا اور وہ انعام تھا مخمل کا جوڑا مخمل کے جوڑے کا تصور جنت کے حصول سے کم خوشگوار نہیں تھا۔سورتیں یاد کرتی رہی اور ابا جان کو سناتی رہی پھر جدائی کا 40