میاں عبدالرحیم صاحب دیانت — Page 31
کر دیا۔“ شادی۔آپس کا حسنِ سلوک - جدائی بصبر ) 1948ء ہی کی بات ہے ایک سکھ بھگت سنگھ ابا جان کے پاس کچھ کتا بیں فروخت کرنے کے لیے لایا۔ان میں ایک حضرت پیر منظور محمد صاحب والا قرآن کریم تھا۔ابا جان لکھتے ہیں : ” جب میں نے ہاتھ میں لیا تو شدت جذبات سے میرے اوپر لرزہ طاری ہو گیا۔یہ قرآن میری پیاری بیوی آمنہ کا تھا۔جس پر وہ ہر روز میرے سامنے بیٹھ کر تلاوت کیا کرتی تھی۔میری حالت اُس سے چھپی نہ رہی وہ بڑا گھاک کاروباری آدمی تھا امرتسر میں کتابوں کی بڑی دکان تھی اس نے بہت زیادہ قیمت بتائی میں نے اس کی منہ مانگی رقم ادا کر کے قرآن پاک لے لیا اور پھر اُسے بذریعہ ڈاک ملے جلے جذبات کے ساتھ روانہ کر دیا۔یہ سوچتا رہا کہ اپنا قرآن پاک اور میرے بھجوانے کے جذبہ سے متاثر ہو کر وہ نہ معلوم کتنی دفعہ سر بسجود ہو کر مجھ گنہگار کے حق میں بخشش کی دعائیں کرے گی۔“ امی جان پر کیا گزری 29 ستمبر 1947ء کو قادیان اور ابا جان کو پیچھے چھوڑ کر ہجر نصیبوں کا یہ قافلہ سارا راستہ موت کے خطرے سے دوچار، سڑک کے دونوں طرف دردناک مناظر دیکھتے ہوئے۔دعاؤں کا ورد کرتے ہوئے سارے دن کا بھوکا پیاسا شام کے وقت رتن باغ لاہور پہنچا۔ٹرک رکا تو اندھیرے میں ٹارچ کی روشنی ڈال کر خواتین کا استقبال کرنے 31