میاں عبدالرحیم صاحب دیانت — Page 29
شادی۔آپس کا حُسنِ سلوک - جُدائی ،صبر ) تحریر پر دستخط لئے ہیں جس کی رُو سے اخیر دسمبر تک قادیان میں رہنا ہوگا وعدہ لیا ہے۔امن صلح اور افسروں کی اطاعت اور ساتھیوں کو آرام پہنچاؤں گا وغیرہ وغیرہ کھانے کے لئے دونوں وقت پر چی کی تصدیق ہو کر پاس دکھا کر ایک قطار میں کھڑے ہو جاتے ہیں آدھا گھنٹہ کٹورا ہاتھ میں لئے آہستہ آہستہ قطار میں آگے بڑھ کر منزل پر پہنچتے ہیں دال کے ساتھ کبھی ایک کبھی ڈیڑھ اور کبھی دو روٹیاں مل جاتی ہیں جس میں پسائی کا درست انتظام نہ ہونے کی وجہ سے مٹی ضرور ہوتی ہے۔یہ محض خدا کا فضل ہے کہ صحت بحال ہے ورنہ ایسی روٹی کھا کر بیمار ہو جاتے۔دال جب پیٹ میں کرتب دکھانے لگتی ہے تو فروٹ سالٹ پی کر اسے بہلاتا ہوں۔گھر میں دال پکتی تو آپ میرے چہرے کی شکنیں گنے لگتیں اور میں بہانہ کر دیتا کہ مجھے بھوک نہیں ہے اب چار ماہ سے دال ہی دال کھا رہا ہوں۔سو آدمیوں کے جن کا قادیان میں ٹھہر نا منظور ہوا ہے دس دس کے گروپ بنائے ہیں ان میں سے دو گروپ پندرہ میں بوریاں سروں پر اٹھا کر لے جاتے ہیں ہندو چوک میں آٹا پینے کی مشین ہے اس میں ڈال دیتے ہیں رات کو دوسرے دو گروپ اسی طرح سروں پر اٹھا کر آٹا لے آتے ہیں الحمد للہ بڑا سرور آتا ہے۔اس بستی کی دیواروں کو مینار، مسجد مبارک، دار مسیح مقدس اور محبوب جگہوں کی اینٹوں کو آنسوؤں سے تر بوسہ دیتا ہوں اور ان سے کہتا ہوں اس بستی میں رہنے نہیں دیتے اللہ تعالیٰ سے شکایت نہیں اپنے اعمال اس قابل نہ ہوں گے۔الہی جماعتوں کے ایسے حالات کھاد کا کام کرتے ہیں یہی سنت 29