میاں عبدالرحیم صاحب دیانت — Page 28
شادی۔آپس کا حسنِ سلوک - جُدائی ، صبر ) 6 نومبر 1947 ء کے مکتوب میں تحریر کیا: محلہ وارقتل وغارت اور لوٹ مار کے بعد بورڈنگ کو خالی کرالیا گیا۔اور قریباً تین من گندم پر نا جائز قبضہ کر کے ہم درویشوں کو اس سے محروم کر دیا یہ تو خدا کا فضل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب کو ایک نان دکھا کر فرمایا کہ یہ تیرے اور تیرے ساتھ کے درویشوں کے لئے ہے کہ اب تک خدا تعالیٰ اس دکھائے ہوئے نان سے وافر حصہ درویشوں کو عطا کر رہا ہے اور آئندہ بھی کرے گا اور اپنی رضا کی چادر میں چھپاتا رہے گا۔ان شاء اللہ۔دلخراش حالات ہیں۔یہاں کے کتے بھی بھوکے روتے ہیں اور ان کو دے کر خود کھانے والوں کو یاد کرتے ہیں دل بھر آتا ہے جب خوب صورت بلیاں میاؤں میاؤں کرتی روتی پھرتی ہیں وہ جو گوشت کھانے کی عادی تھیں اب درویشوں کی سوکھی روٹی پر گزارا کرتی ہوئی کمزور اور بیمار ہوگئی ہیں۔ان کو کہاں سے دیں بہت ترس آتا ہے ہماری بلی کیٹی پتا نہیں کہاں ہوگی اس کی بھوک کا سوچتا ہوں آبدیدہ ہو جاتا ہوں ہمیں نہ پا کر پریشان ہوگی اس طرف جا سکتا تو اس کا حال پوچھتا۔مگر یہ مشکل ہے کچھ خدام دارالانوار کی طرف گئے تھے ان کو پولیس نے بہت مارا پیٹا ایک کی حالت زیادہ خراب ہے۔سارے مکان خالی کرالئے ہیں سامان توڑ پھوڑ دیا ہے برتن ٹوٹے ہوئے کتابیں بکھری ہوئی ہیں جہاں دفتر الفضل تھا وہاں ہم رہتے ہیں بہشتی مقبرہ جاسکتے ہیں۔امیر صاحب نے قریباً سو آدمیوں کا قادیان ٹھہر نا منظور کیا ہے جن میں میرا نام بھی ہے ایک 28