میاں عبدالرحیم صاحب دیانت

by Other Authors

Page 27 of 93

میاں عبدالرحیم صاحب دیانت — Page 27

شادی۔آپس کا حُسنِ سلوک - جُدائی ،صبر ) بھر نے لگے۔مجید کو میں نے اندر سے دروازہ بند کرنے کو کہا اور خود چھت کے اوپر مٹی پر جا کر جائزہ لیا کہ کیا ہوسکتا ہے۔میں نے دیکھا کہ ایک کیپٹن اور تھانیدار ہزارہ سنگھ قریباً چالیس ملٹری کے آدمیوں کے ساتھ کالج کی طرف جارہے ہیں میں نے اُن کو آواز دی کہ یہ کیسی ہماری حفاظت ہے کہ باہر آپ نے کرفیو گا یا ہوا ہے اندر اپنے آدمی نقب زنی اور لوٹ مار پر لگارکھے ہیں۔کیپٹن انگریز تھا اُس نے پوچھا کہ یہ آدمی کیا کہتا ہے جب اُسے بتایا گیا تو اس نے مجھے نیچے بلایا اور ساری بات پوچھی وہ ایمان دار تھا۔اُس نے زبر دستی باٹا شوز اسٹور کا دروازہ کھلوایا۔اپنے سارے آدمیوں کو قطار میں کھڑا کر کے پوچھا کہ ان میں سے پہچانیں آپ کی چوری کس نے کی تھی۔دو آدمی پہنچانے گئے اُس نے تھانیدار کو کہا کہ ان سے رائفلیں لے لیں اور پیٹیاں اُتار لیں اور مجھے کہا کہ آپ کے کسی ذمہ دار آدمی کے سامنے ہم ان کو سز اسنا دیں گے۔چنانچہ سرمحمد ظفر اللہ خان صاحب کی کوٹھی پر محترم مرزا عبدالحق صاحب کو بلو اکران چوروں کے خلاف فرد جرم لگائی اور پندرہ پندرہ دن کی سزا سنائی۔اس بات سے اُس علاقے کے ملٹری والے میرے خون کے پیاسے ہو گئے جو گزرتا چوبارے کی طرف ضرور فائر کرتا۔اللہ تعالیٰ نے اپنی خاص حفاظت سے مجھے ان کے حملوں سے محفوظ رکھا۔الحمد للہ ثم الحمد للہ یہ واقعہ بہت مشہور ہوا بہت احباب میری خیریت پوچھتے اور دعا کرتے حی کے حضرت اماں جان بھی میرے لئے دعا کرتیں۔“ 27