آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل)

by Other Authors

Page 47 of 114

آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل) — Page 47

91 90 چھپائے نہیں۔ہائے اس لڑکی کے پیچھے لٹ گئے تھے۔اب یہ بھی ہاتھ سے جاتی ہے۔ڈاکٹر صاحب نے ٹھوک بجا کر دلہن کو خوب دیکھا پھر نہایت متشکرانہ انداز میں فرمایا کہ بظاہر تو کوئی امید بچنے کی نہیں“۔بڑا پنڈت ان کے پیروں پر گر پڑا کہ ”جس طرح بھی ہو سکے اسے بچاؤ جو مانگو گے وہ دوں گا“۔آخر سوچ سوچ کر بہت دیر میں انہوں نے فرمایا کہ اچھا مجھ سے ٹھیکہ کر لو کوشش کرتا ہوں۔اگر نہ بچی تو تم سے کوڑی تک لینا حرام ہے۔اور اگر پرمیشر نے تمہیں اس کا دان دیا ہے۔ورنہ شہر کے شہر میں کیا اُن کی فکر کے رشتے نہ تھے؟ ایک آدمی یہ بات سُن کر بازار میں سے ایک پرائیوٹ ڈاکٹر کو بلا لایا اُس نے بھی دیکھ کر کہا کہ "ہسٹیریا کا دورہ ہے معمولی بات ہے۔اُس نے تولیہ گیلا کر کے کئی بار منہ پر مارا اور ایمونیا کا رب سنگھا یا دورہ جاتا رہا۔اس کے بعد اس گھر میں اُن پانچ سو روپوں کا ماتم برپا ہوا۔پنڈت جی سیدھے شفا خانہ پہنچے اور ڈاکٹر صاحب سے جا کر لڑنے کی کر پا سے دُلہن اچھی ہو گئی تو پانچ سو روپیہ لوں گا“۔پنڈت نے فورا مان لگے کہ ” آپ نے مجھ غریب کو لوٹ کر اور دھوکا دے کر بڑا پاپ مول لیا۔ہے۔لیا۔کیونکہ اُس کی نظر میں تو وہ مُردہ ہی تھی۔اور سچ سچ مر جاتی تو پھر کئی ہزار روپیہ میں بھی نئی دلہن ملنی مشکل تھی۔بلکہ قریباً ناممکن۔غرض علاج شروع ہوا۔ایک ٹیکہ دوسرا ٹیکہ تیسرا ٹیکہ مالش اور کئی ظاہر داری کے فضول علاج آخر میں ایمونیا کا رب سنگھایا گیا جس پر دلہن نے کلبلانا شروع کیا۔مبارک سلامت کا شور برپا ہو گیا۔پھر مزید معالجات ہوتے ارے ظالم! برہمن کو تو چھوڑ دیا ہوتا۔ہندو ہو کر برہمن کے ساتھ یہ فریب؟ مگر ڈاکٹر صاحب کا ایک ہی جواب تھا کہ ”بھائی وقت کا علاج اور وقت کی کمائی ہے۔روپیہ زبردستی نہیں لیا۔بلکہ تمہاری مرضی سے سارا معاملہ طے ہوا تھا۔اب اگر تمہیں چارہ جوئی کرنی ہے تو عدالت میں جاؤ“۔بیچارہ پنڈت رو پیٹ کر چلا آیا۔اور کہنے لگا ”ڈاکٹر صاحب آپ کے پاس یہ پانچ سو روپیہ زیادہ دیر تک رہے حتی کہ دو گھنٹہ میں لڑکی نے آنکھیں کھول دیں۔اور اُس کے آدھ گھنٹہ بعد نہیں چلے گا۔مگر ہم غریبوں کے سراپ (بد دُعائیں) جو دل سے نکلیں گے وہ آپ کا پیچھا نہیں چھوڑیں گے۔“ اُٹھ کر بیٹھ گئی۔پھر کیا تھا ڈاکٹر صاحب پانچ سو روپیہ کے نوٹ جیب میں ڈال کر وہاں سے ہلے اور اُن کی کرامات کا ڈنکا رات بھر اُسے شہر کی گلی گلی اور گھر گھر بجتا رہا۔برادری نے بھی کہا کہ ”چلو روپیہ ہاتھ کی میل ہے۔جمعوت گھر که ” برہمن مہاراج کا روپیہ واپس کر دیں۔دھوکہ کا پھل اچھا نہیں ہوتا پر میشر کو ڈاکٹر صاحب کی بیوی بڑی نیک دل تھی۔وہ اپنے پتی سے کہنے لگی برہمن دیوتا کا ستانا بہت ناگوار گزرے گا۔مگر ڈاکٹر صاحب نے ڈانٹ ڈپٹ میں گھس آئے تھے دفع ہو گئے۔غرض شب زفاف بخیریت گزری۔دوسرے دن تیسرے پہر کا وقت کر اُسے بھی خاموش کر دیا۔تھا کہ دلہن کی حالت پھر ویسی ہی ہو گئی۔ارے لینا بھا گنا دوڑنا یہ کیا ہوا ہم تو ابھی کچھ زیادہ دن نہیں گزرے تھے کہ ڈاکٹر صاحب کی آنکھیں سمجھے تھے اچھی ہو گئی۔اتنے میں کوئی شخص لڑکی کے میکے کے شہر کا اُدھر سے گزرا کھنے آگئیں پہلے تو معمولی بیماری کبھی گئی۔پھر تو یہ حال ہوا کہ درد اور ٹیسیں اُس نے بتلایا کہ اس چھوکری کو تو دو تین برس سے ہسٹیریا کے دورے پڑتے سرخی اور پانی حتی کہ زخم بڑھنے شروع ہو گئے۔مجبوراً شفاخانہ میں داخل ہیں اور اکثر شام کے قریب یہ بے ہوش ہو جایا کرتی ہے۔جبھی تو لڑکی والوں ہوئے۔وہاں کے معالج نے بھی بہت تشویش ظاہر کی۔اور باوجود بہترین علاج