آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل)

by Other Authors

Page 19 of 114

آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل) — Page 19

35 34 میں نے پوچھا ” کیوں؟ کہنے لگی اصل قصہ یہ ہے کہ جب میں شام سے پہلے اُس عورت کا نکاح ملا نے شفا خانہ میں ہی آ کر پڑھا دیا اور بیوہ ہو گئی تو اس شخص نے مجھ سے عدت کے بعد کہا کہ میں تجھ سے شادی کر دوسرے دن وہ بمعہ اپنی پہلی بچی کے تھم تھم کرتی اور ہمیں دعائیں دیتی اپنے لیتا مگر تیرا گھیگا مجھے بدصورت لگتا ہے۔اگر تو روجھان والے ڈاکٹر سے اس کا دولہا کے پیچھے پیچھے گھر کی طرف جا رہی تھی۔خدا نے جیسے اُس کے دِن آپریشن کرا لے اور تیری یہ بدصورتی جاتی رہے تو پھر میں ضرور تیرے ساتھ پھیرے ویسے ہی سب کے پھیرے۔آمین (15) تعلی کا حشر ایک دفعہ میں ریل کے سفر میں تھا کہ امرتسر کا اسٹیشن آ گیا۔اُس درجہ نکاح کرلوں گا میں راضی ہو گئی۔پھر آپ نے دیکھ لیا کہ کس طرح میں نے اس کی خاطر تکلیف اُٹھائی۔نمونیہ ہوا۔مہینہ بھر زندگی اور موت کے درمیان لٹکتی رہی۔میرے چہرے کا روپ اور جسم کا گدرا پن سب جاتا رہا۔اور جب میں اس کی خوشی کے لئے ہر طرح کی موت قبول کر چکی تو اب وہ کہتا ہے کہ تیری میں کئی شرفا بیٹھے تھے کہ اُن میں سے ایک صاحب خود بخود سب کو مخاطب کر شکل اچھی نہیں رہی۔تو بدصورت ہو گئی ہے میں تجھ سے شادی نہیں کروں گا اور کے اپنی مدح سرائی کرنے لگے کہ ”بھائیو! آج کل سفر میں بہت ہوشیار رہنا آج شام کو گاؤں چلا جاؤں گا۔میں نے اُسی وقت ادھر اُدھر آدمی بھیج کر اُس چاہیے۔اسٹیشنوں کے سودے والے مسافروں کو خوب لوٹتے ہیں اور ہم کو بے وقوف بناتے ہیں اس درجہ میں کسی صاحب کو سودا لینا ہو تو میں کھڑکی کے پاس کو ڈھنڈوا کر بلایا اور اُس کے سامنے سارا قصہ اُس عورت سے دوبارہ کہلوایا اور پوچھا کہ: "کیا یہ سچ کہتی ہے؟ وہ بولا: ”ہاں سچ کہتی ہے۔ہیں۔ایک واقعہ یہاں ایسا ہوا ہے۔آپ کے ذرا سے دباؤ سے وہ و سے وہ بیوقوف ہوں میری معرفت خریدے۔ہم میں سے ایک جنٹلمین اس درجہ کے دروازے سے منہ نکالے باہر " میں نے کہا کہ: ”ارے ظالم ایک دو ماہ میں اس پر پھر وہی رنگ و دیکھ رہے تھے کہ انہوں نے پلیٹ فارم پر ایک سودا بیچنے والے کو دونوں میں روپ چڑھ جائے گا۔تو گھبرا نہیں۔مگر اُسے انکار ہی رہا۔آخر میں نے لوکاٹ رکھے ہوئے بیچتے دیکھا۔نیا موسمی پھل تھا۔فوراً آواز دے کر ایک دونا خریدا اور اندر بیٹھ کر کھانے لگے۔ساتھ ہی درجہ والوں کے آگے دونا بڑھا کر روجھان کے تمندار نواب سر بہرام خان کو پیغام بھیجا کہ آپ علاقہ کے رئیس انہوں نے کہا کہ ” صاحبان نیا پھل کھائیے۔مسافروں نے کہا ”آپ ہی ہماری بات مان سکتا ہے۔اگر ایک دفعہ وہ یہاں سے چلا گیا تو عورت بیچاری کھائیے۔ہمارا دل بھی لوکاٹ نئے کرنے کو چاہتا ہے وہ لوکاٹ والا اب کے کی ساری قربانی ضائع ہو جائے گی اور بدنام الگ ہو گی۔نواب صاحب نے پھر ادھر سے گزرے گا تو ہم بھی لیں گئے۔اتنے میں خود پسند صاحب بولے فوراً اُس شخص کو بلا کر ڈانٹا کہ تو بڑا پاجی ہے تو نے اس عورت کی جان کو خطرہ کہ ” صاحبان آپ نے دیکھا ان کے لوکاٹ کچے اور خراب ہیں۔جو دونا چاہا میں ڈالا اور جب اُس نے تیری بات مان لی تو تو عہد شکنی کرتا ہے۔جا ابھی دکاندار نے اُن کے حوالے کر دیا آپ صاحبان مجھے کہیے میں انتخاب کر کے ایسے عمدہ لوکاٹ آپ کو کھلاؤں گا کہ آپ بھی کیا یاد کریں گے۔میں نے اُس اس سے نکاح کر ورنہ تجھے جیل خانہ میں ڈالتا ہوں۔نتیجہ یہ ہوا کہ اُسی دن