آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل) — Page 17
31 30 " تھر ماس بوتلیں اُن دنوں میں نئی نئی نکلی تھیں۔اور اُن کو یہ علم نہ تھا کہ طاعون کے بیماروں کو دیکھنے کا نتیجہ یہی ہونا تھا۔سر میں درد ہونے لگا۔ان بوتلوں میں گرم دودھ پھٹ جایا کرتا ہے۔چنانچہ گرم دودھ جو اس چھوٹے طبیعت زیادہ گھبرا گئی۔پھر تھرما میٹر جھٹک کر نوکر سے ڈھلوا کر لگایا تو وہی کے لئے انہوں نے تھرماس میں رکھا تھا وہ پھٹ گیا اور سارے سفر میں بچہ 105 بلکہ کچھ نکلتا ہوا۔” ہے رام رام۔یقیناً یہ پلیگ ہے۔بدن کا رواں وہی پھٹا ہوا دودھ وہ اپنے بچہ کو پلاتی ہوئی ہمارے ہاں آئیں۔دوسرے دن رواں جلنے لگا آنکھیں گویا سر میں سے باہر نکلی پڑی تھیں۔آدھ گھنٹہ میں پھر سے لڑکے کو سبز دست آنے لگے۔دس یا پندرہ دن تک میں نے جو بھی ہوسکا تھرما میٹر لگایا تو ذرا سا اور زیادہ ہی نکلا۔ہے پر میشر کیا کروں! بیوی بچے اُس بچہ کا علاج کیا اور دوسرے ڈاکٹروں سے بھی مشورہ لیا مگر بچہ کو نہ اچھا بھی وطن گئے ہوئے ہیں۔اپنا یہاں کوئی بھی نہیں ہے۔ارے بدھو جا کر ذرا ہونا تھا نہ ہوا اور دو ہفتہ بیمار رہ کر وفات پا گیا۔اُن کے ہاں چونکہ اولاد کی کمپاؤڈر کو تو بلا لا۔وہ بچارا آیا تو دور ہی سے ڈاکٹر صاحب کہنے لگے ” بھٹی کمی تھی اور بچہ بھی فرزند نرینہ تھا اس لئے ماں کو سخت صدمہ ہوا۔اُس وقت نتھو رام! مجھے پلیگ ہو گئی ہے۔بخار بہت تیز ہے اور اب تو دائیں ران میں مجھے وہ بات یاد آئی جو میں نے چھ سات سال پہلے لاہور میں کہی تھی کہ اُن گلٹی کے مقام پر درد بھی ہو رہا ہے۔سر میں درد سخت بخار اور گلٹی اوپر سے کے ہاں لڑکا پیدا ہو گا اور وہ میرے ہاتھوں میں مرے گا تاکہ اُن کا شرک شہر میں پلیگ موجود اور کئی روز سے اس بیماری کے مریض بھی دیکھ رہا ہوں۔غرض کوئی شبہ نہیں رہا۔مہربانی کر کے فوراً میرے گھر میں بذریعہ تار ٹوٹے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔(13) وہم کا اثر اطلاع دے دو کہ ڈاکٹر صاحب کو طاعون ہو گیا ہے اور حالت نازک ہے۔اور تم یہ تھرما میٹر تو جھٹک کر اُتار دو۔ارے بدھو ذرا یہ تھرما میٹر تو دھو لا۔ایک ڈاکٹر صاحب ایک شہر کے سول ہاسپٹل کے انچارج تھے۔اور بدھو تھرما میٹر دھو لایا۔لگایا تو 106 ہائے باپ رے باپ میں مرا۔معلوم ہوتا به سبب ضلع کا صدر ہونے کے وہاں سول سرجن بھی موجود تھا۔قضارا پلیگ کا ہے کہ دوسری طرف کی گلٹی بھی نمودار ہونے لگی ہے، ادھر بھی بہت سخت جلن دور دورہ اُس شہر میں شروع ہو گیا۔ڈاکٹر صاحب شہر میں جا کر پلیگ کے اور درد ہے۔کمپاؤڈر بھی گھبرا گیا اور کہہ گیا کہ ” تار تو ابھی دے دیتا ہوں بیماروں کو بھی دیکھ لیا کرتے تھے۔کیونکہ ایسے بیماروں سے معمول کی نسبت اور سول سرجن صاحب آنے والے ہیں انہیں بھی خبر کر دیتا ہوں“۔یہ کہہ کر دُگنی فیس مل جایا کرتی تھی۔کچھ مدت کے بعد ڈاکٹر صاحب نے ایک دن صبح وہ تو چلا گیا اُدھر ڈاکٹر صاحب کی حالت لحظہ بہ لحظہ خراب ہونے لگی۔ہائے اُٹھ کر اپنے نوکر سے کہا کہ ” میری طبیعت کچھ خراب ہے۔شاید بخار ہو گیا وائے بے قراری، درد، غرض، گھنٹہ بھر تک گھر کو سر پر اُٹھائے رکھا۔ہسپتال ہے۔تو ذرا یہ تھرما میٹر دھو کر لے آ۔جب نوکر تھرما میٹر دھو کر لایا تو ڈاکٹر کے عملہ کے لوگ برابر آتے جاتے رہے۔مگر ڈر کے مارے دُور ہی کھڑے صاحب نے اُسے اپنے منہ میں لگا لیا۔دو منٹ کے بعد جو دیکھا تو ٹمپریچر رہتے تھے کہ اتنے میں باہر سے آواز آئی کہ سول سرجن صاحب تشریف لا ایک سو پانچ ! ڈاکٹر صاحب وہمی بھی تھے، خیال ہوا کہ طاعون ہو گیا۔آخر رہے ہیں۔چلمن اُٹھی اور وہ اندر آ گئے۔آتے ہی کہا۔”ویل ڈاکٹر صاحب