آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل) — Page 16
29 28 ہوتی تھی کچھ بسکٹ کچھ ٹوسٹ کچھ کیک دو انڈے جام کی بوتل وغیرہ وغیرہ۔کر بجھ گیا دو تین دفعہ اُس نے پھر جلانے کی کوشش کی مگر ناکامی ہوئی۔آخر یز لوگ تو ایک دو پیالی، برائے نام دودھ، اور ذرا سی شکر ڈال کر ایک دو ادھر اُدھر کے لوگوں سے پوچھا تو معلوم ہوا کہ یہ بوتل تو کرنیل صاحب نے مع ٹوسٹ یا ایک بسکٹ کے ساتھ ناشتہ کر لیا کرتے تھے باقی سب چیزیں قیف کے اپنے لئے رات کے وقت پیشاب کرنے کو رکھی ہوئی تھی۔اور بجائے خانساماں لوگ واپس لے جاتے تھے۔اور پینے والے ایک روپیہ فی کس اس مٹی کے تیل کے درحقیقت اس میں روغن بول تھا وہ لڑکا بیچارا بڑا خفیف ہوا۔چائے کی قیمت ادا کر کے چلے جاتے تھے۔کرنیل صاحب نے جب اتنا سامان پھر جو دوسری الماری میں دیکھا تو روزنامہ سول ملٹری گزٹ کی کئی بڑی بڑی دیکھا تو منہ میں پانی بھر آیا اور خیال کیا یہ سب مال تو ایک روپیہ میں مفت پڑیاں بندھی رکھی پائیں۔انہیں بڑے شوق سے کھولا گیا تو کچھ نہ پوچھو کیا ہے۔خیر ان کے آگے حسب رواج جب چائے آتی تھی۔تو پہلے تو وہ سارا نکلا۔کرنیل صاحب کا۔۔فضلا ! بنڈل بسکٹوں کا نوش فرماتے۔پھر سب ٹوسٹ۔پھر ساری مکھن دانی چٹ کر کے انڈے کھا کر چمچے سے سارا جام وغیرہ اُڑا جاتے۔اس کے بعد تمام دودھ اور مصرمی ساری چائے میں ملا کر مع کیک کے ہضم کرتے۔غرض اُن کے آگے (12) بڑا بول 1907ء میں لاہور میو ہاسپٹل میں ہاؤس سرجن تھا کہ میری بڑی سالی سے جب ٹرے اُٹھتی تو ایک ذرہ بھی کسی چیز کا باقی نہ ہوتا تھا۔جب ایک ہوٹل ہمارے ہاں اپنی بہن سے ملنے آئیں شاید مہینہ بھر یا کم و بیش وہ ہمارے ہاں ٹھہریں۔وہ نہ صرف میری سالی ہی تھیں بلکہ پھوپھی کی بیٹی بھی تھیں۔آئی وہ کے نوکر ان کی یہ حالت دیکھ کر بے اعتنائی کرنے لگتے تو آپ دوسرے ہوٹل میں جا کر وہی عمل وہاں شروع کر دیتے۔یہی وجہ تھی کہ انہوں نے گھر پر کھانا اس طرح تھیں کہ اُن کے ہاں ایک لڑکی ہوئی تھی جو کچھ مہینے زندہ رہ کر مرگئی تھی۔اُس کے مرنے کے صدمہ کو بھلانے کے لئے وہ اپنی چھوٹی بہن یعنی کھانا ترک کر دیا تھا۔آخر تابہ کے لاہور میں ان دنوں چند ہی بڑے ہوٹل تھے۔جب سب جگہ اُن کی اس کم خوری“ کا چرچا ہو گیا تو ہوٹل میں گھستے ہی میری بیوی کے پاس آ گئیں۔یہاں آکر وہ ایک بات کا بار باز ذکر کیا کرتی خانساماں کہہ دیا کرتے کہ ” صاحب چائے تیار نہیں ہے۔اس طرح خدا خدا تھیں۔یعنی یہ کہ اگر میرے بہنوئی ڈاکٹر صاحب (یعنی خاکسار) میرے پاس کر کے ان کی وہ ہوٹل گردی بند ہوئی۔آخر تعلیمی سیشن ختم ہو گیا اور اُن کے کمرہ ہوتے تو میری لڑکی نہ مرتی۔جب انہوں نے کئی دفعہ اس قسم کا ذکر کیا تو مجھے خدا تعالیٰ کے متعلق بڑی غیرت آئی اور میں نے کہا کہ اب اُن کے ہاں ضرور ایک لڑکا پیدا ہو گا اور وہ میرے زیر علاج رہ کر میرے ہی ہاتھوں میں مرے گا“۔بات گئی آئی ہوئی۔1913ء میں خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ اُن کے ہاں ایک بیٹا پیدا ہوا۔اُس کا چلہ کر کے وہ اپنی بہن سے ملنے کے لئے مع اپنے بچہ کے میں کوئی اور طالب علم آ گیا اور یہ دیکھ کر بہت خوش ہوا کہ کرنیل صاحب ایک بھری ہوئی مٹی کے تیل کی بوتل الماری میں چھوڑ گئے ہیں۔اُن دنوں لاہور میں مال روڈ کے سوا دیگر کوٹھیوں اور مکانوں میں بجلی نہیں تھی۔شام ہوئی تو اُس لڑکے نے خود یا نوکر سے اپنا لمپ اُسی تیل سے بھروا لیا۔مگر جب جلا کر مطالعہ شروع کیا تو لمپ نے روشن ہونے سے انکار کر دیا اور تھوڑی دیر میں چڑ چڑ ہو ہمارے ہاں تشریف لائیں۔