آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل) — Page 50
97 96 لالہ :- ( پانچ روپیہ رکھ کر ) تو کیا کوئی کچا علاج بھی ہے؟ جن تھا میں نے نوٹ اُٹھا کر گنے تو ہیں (20) یعنی پورے سو (100) میں :۔ہاں ایک بیٹی ہوتی ہے جسے ہر وقت باندھے پھرنا پڑتا ہے۔روپے مگر اصل عقدہ آج تک نہیں کھلا۔الاله (پانچ روپے رکھ کر ) اس سے کچھ تکلیف تو نہیں ہوتی ؟ میں : - اس کے ساتھ کچھ زیادہ اہتمام کرنا پڑتا ہے۔اور گرمیوں میں پسینہ سے بھی خراب ہوتی رہتی ہے۔لالہ:- ( پانچ روپے رکھ کر ) پھر کیا کیا جائے؟ (48) دودھ گھی کی نہریں جب چیزوں کے نرخ مہنگے تھے تو لوگوں کے باغیانہ خیالات بھڑ کانے کے لئے مہاشہ صاحبان کہا کرتے تھے کہ ایک پراچین زمانہ وہ تھا جب میں : اور میرے نزدیک تو پکا علاج آپریشن ہی ہے آپ جوان آدمی ہندوستان میں دُودھ اور گھی کی نہریں چلا کرتی تھیں۔اناج کی نہایت ارزانی تھی۔لوگ طاقتور تھے۔ان انگریزوں کے آنے سے ہر چیز مہنگی ہو گئی۔اور ہیں بیٹی کا بڑا جھگڑا ہے۔ہو گا ؟ میں :۔میرا تو یہی مشورہ ہے۔لالہ:- ( پانچ روپے کا نوٹ ) کیا کلورا فارم بھی لینا پڑے گا ؟ لالہ:- ( پانچ روپے مزید دے کر ) تو آپریشن کرالوں نا یہی مناسب ہندوستانی بھوکے مرنے لگئے“ وغیرہ وغیرہ۔پھر 1930ء سے ارزانی کا ایک دور شروع ہوا دُودھ شہروں میں ایک آنہ سیر اور غلہ ایک روپیہ کا نہیں سیر جا پہنچا۔تو جھٹ دوسرا راگ الاپنا شروع کر دیا کہ ”ملک فنا ہو گیا۔تاجر تباہ ہو گیا۔زمیندار بُھو کا مر گیا“۔آخر ایک دن ایک مہاشہ صاحب سے جو ایسی باتیں کہہ رہے تھے۔میں نے کہا: کہ تمہیں تو نہ یوں چین ہے نہ دوں۔ابھی تو دُودھ گھی کی نہریں میں : - نہیں کوئی ایسا خطرہ تو نہیں ہے۔آپ تندرست آدمی معلوم نہیں ہیں۔ذرا سماں ستا ہی ہوا ہے۔تو لگے تم چیچنے۔اگر نہریں چلنے لگیں تو شاید خودکشی ہی کر لو گے۔فرمانے لگے ”اجی یہ سب پراپیگنڈا ہوتا ہے ورنہ بھاؤ میں : ہاں وہ تو لازمی ہے۔لالہ پانچ روپے رکھ کر ) اُس کا خطرہ تو کوئی نہیں؟ ہوتے ہیں۔میرے نزدیک تو یہی مناسب ہوگا۔لالہ : - ( پانچ روپے کے ساتھ ) بہت بہت شکریہ بس میں یہی تو پر میشر کے ہاتھ میں ہی ہے۔ہم ایسی دلیلیں بھی نہ دیں تو لوگوں کو کس طرح اپنا ہم خیال بنا ئیں۔سیاست جھوٹ اور فریب کا دوسرا نام ہے اور بس۔مشورہ آپ سے لینے آیا تھا۔میں : - لالہ صاحب یہ روپے تو اُٹھا لیجئے میں کس طرح اتنی رقم اس مشورہ کی لے سکتا ہوں؟ مگر لالہ اتنی دیر میں کہیں کا کہیں جا چکا تھا۔پیٹھ پھیرتے ہی ہوا ہو گیا۔خدا جانے فرشتہ تھا جو مجھے سفر کے اخراجات دینے آیا تھا۔یا کوئی (49) ایک مولانا 1916ء کا ذکر ہے کہ پانی پت میں سخت ہیضہ پھوٹا اور سارے گنوؤں میں لال دوا ڈالنی ضروری ہو گئی۔کمیٹی کے رجسٹروں سے معلوم ہوا کہ