آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل)

by Other Authors

Page 48 of 114

آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل) — Page 48

" 92 93 کے آنکھوں کی تکلیف بڑھتی ہی چلی گئی۔یہاں تک کہ اندھا ہونے کا خطرہ پیدا اس کی شناخت نہیں کی تھی کہ کس شخص کی ہے؟ اس وجہ سے مقدمہ ملتوی رہا۔ہو گیا۔بیچاری بیوی ان کو بار بار یاد دلاتی تھی کہ یہ بیماری نہیں ہے۔اُس نعش بعد ملاحظہ مقامی انجمن کے کارندوں یا یوں کہیے کہ مسجد کے پنڈت غریب کی آہ مظلوماں ہے۔مگر ڈاکٹر صاحب اس کی بات کو جہالت کہہ ملانوں کے سپرد کر دی گئی۔اور کمیٹی نے دس روپیہ اُن کے حوالے کر دیے کر ٹال دیتے تھے۔لیکن جب واقعی نابینا، ہونے کے آثار سامنے آ گئے تو ملانوں نے رپورٹ کر دی کہ مُردہ گورِ غریباں میں دفن کر دیا گیا۔آٹھ دس بمشکل انہوں نے بیوی کے اصرار پر اُسے اجازت دی کہ روپیہ واپس کر دیا دن کے بعد جہاں سے نعش ملی تھی وہاں سے پانچ سات کوس کے فاصلہ پر ایک جائے۔روپیہ کا واپس ہونا تھا کہ ڈاکٹر صاحب اچھے ہونے شروع ہو گئے اور گاؤں کی کسی عورت نے پولیس میں رپٹ لکھوائی کہ ” میرا خاوند کئی دن سے گم ایک ماہ دتی میں گزار کر پورے تندرست ہو کر گھر واپس آ گئے۔ہے اور اُس کا کچھ پتہ نہیں چلتا۔تھانیدار کو خیال آیا کہ کہیں وہ غیر شناخت (46) کفن چور ملا نے شدہ نعش اس عورت کے خاوند کی ہی نہ ہو۔جھٹ افسران بالا کو رپورٹ کر کے قبر کھدوانے اور نغش شناخت عموماً میونسپل کمیٹیاں لاوارث مُردوں کو اپنے خرچ پر دفن کراتی ہیں۔کرانے کی اجازت لے لی۔نتیجہ یہ ہوا کہ میری اور تحصیلدار صاحب کی اور مقامی ہندوؤں کی کمیٹی اور مسلمانوں کی انجمن سے ٹھیکہ کر لیتی ہیں کہ مُردہ کو موجودگی میں وہ قبر کھودی گئی اور نعش کو شناخت کے لئے باہر نکلا گیا۔لیکن آپ وہی جلا ئیں یا دفن کریں۔اور کمیٹی سے مقررہ اخراجات لے لیا کریں۔یہ معلوم کر کے حیران ہوں گے کہ اُن ظالم ملانوں نے جو دس (10) روپے 1919ء کا ذکر ہے کہ میں پانی پت میں متعین تھا۔جہاں کی انجمن لے کر مُردہ کے کفن دفن کے ذمہ دار تھے ایک پیسہ اس کام پر خرچ نہیں کیا لاوارث مُردے مسجد کے ملانوں سے دفن کرا دیا کرتی تھی۔اور میونسپل کمیٹی تھا۔مُردہ بالکل الف ننگا اور قطعاً برہنہ قبر میں اوندھا پڑا تھا۔غالباً قبر کے سے دس روپیہ لے لیا کرتی تھی۔مگر وہ دس روپے انجمن کے کام نہیں آتے کنارے پر رکھ کر اسے اندر اس طرح لڑھکایا تھا کہ نعش منہ کے بل جا پڑی تھی تھے۔انجمن کا تو صرف انتظام ہی تھا۔روپے اُنہیں ملانوں کو دے دیے جاتے نہ لحد تھی نہ اینٹیں تھیں۔نہ قبر ہی گہری تھی۔قبر کی جگہ ریتلی زمین تھی پس ذرا سا تھے تا کہ وہ کفن، غسل ، مُردہ کو لے جانا، قبر کھودنا اور دفن کرنا سب اس رقم میں کھودنے پر وہاں آسانی سے قبر تیار ہو گئی۔رقم سب غائب اور ملانوں کے پورا کر دیا کریں۔اُن دنوں یہ تخمینہ ٹھیک تھا۔ہاتھ مسلمان مُردہ کی مٹی یوں پلید ! ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ پولیس کسی لاوارث مقتول کو پوسٹ مارٹم کے اُس زمانہ میں اُن دس (10) روپوں کا حساب قریباً یوں ہوا کرتا تھا لئے میرے پاس لائی۔میں نے بعد ملاحظہ نتیجہ لکھا کہ ”اس شخص کے سر پر قبر کھدوائی دو روپیه، کفن چار روپیه ی غسل کرائی ایک روپیہ، مٹی کے دو لوٹے لاٹھیاں مار کر اسے قتل کیا گیا ہے"۔ایک آنہ، دو گھڑے، تین آنہ جنازہ اٹھوائی، نماز پڑھوائی، چار ملانوں کے لئے اب مشکل یہ آپڑی که نقش جنگل میں پڑی ہوئی ملی تھی۔اور کسی نے دو روپیه، متفرقات بارہ آنے میزان کل دس روپے۔