آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل)

by Other Authors

Page 87 of 114

آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل) — Page 87

171 66 170 ہوتا ہے۔(101) ہردوار ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ میں نے اپنی صحت کی خاطر پورے ایک سال تجربہ بھی۔غرض اسی کو بُلا لیا گیا۔اس پر بنگالی بابو نے جھٹ پٹ پہاڑ کے فرمانے لگے کہ ”بابا ہم تو اسے ہل اسٹیشن سمجھ کر آیا تھا مگر ایسے ہل اسٹیشن کی موسم کے مطابق گرم جوڑے تیار کروا کر اپنا سفر پنجاب کی جانب شروع کر دیا۔ہمیں خبر نہ تھی جہاں ہیٹ اسٹروک ہو جائے۔ہم تو ایک دن بھی یہاں رہنا لاہور پہنچنے کے بعد وہ سانگلہ ہل والی گاڑی میں بیٹھے اور ہر اسٹیشن پر پوچھنا نہیں مانگتا۔غرض دو تین دن میں کچھ صحتیاب ہو کر وہ سیدھے کلکتہ واپس شروع کیا کہ سانگہ ہل کتنی دُور ہے؟ غرض اسی طرح سفر کرتے آخر سانگلہ بھاگے اور طلبہ کو اپنی حالت پر ہنستا چھوڑ گئے۔بعض ناموں میں بھی بہت دھوکا سے ورلے اسٹیشن تک پہنچ گئے اُس وقت مسافروں نے کہا کہ " لیجئے اب اگلا اسٹیشن سانگلہ ہل ہے مہینہ مئی یا جون کا تھا اور دوپہر کا وقت۔مسافروں کے ہر ین مو سے پسینے بہہ رہے تھے اور گرمی کے مارے ٹرین کے ڈبے تنور کی طرح تپ رہے تھے کہ سانگلہ کے قریب آ جانے کا نام سُن کر بنگالی بابو نے اپنا ٹرنک کھولا اور جلدی جلدی بنیان، سوئیٹر، گرم پتلون اور جرابیں پہن کر اوپر کی رخصت لی۔ایک دن خیال جو آیا تو ہر دوار کا ٹکٹ لے کر سیدھا اس کعبۂ اہلِ سے ایک موٹا اوورکوٹ چڑھا لیا، پھر گلو بند گردن کے گرد لپیٹ کر منزلِ مقصود ہنوں میں پہنچ گیا اور ریل سے اتر کر دریا کے کنارے اُن سیڑھیوں پر جہاں لوگ کی راہ تکنے لگے۔ڈبہ کے مسافر حیران تھے کہ یہ شخص بیمار ہے یا دیوانہ؟ نہا رہے تھے جا پہنچا۔ایک پنڈت جی دوڑے ہوئے آئے اور ہاتھ جوڑ کر آخر سانگلہ ہل تو آ گیا مگر ٹھنڈک نہ آئی، نہ پہاڑی سرد ہوا۔نہ سبزہ میرے سامنے کھڑے ہو گئے کہ ”مہاراج! یہاں آپ نہ کھڑے ہوں یہاں تو نہ بارش ”ارے باپ رے باپ یہ کیسا ہل اسٹیشن ہے؟“ اتنے میں ایک اُستاد صرف ہندو ہی اشنان کر سکتے ہیں۔ہر کی پوڑی دیکھنی ہے تو سامنے والے اور کئی لڑکے اسکول کے جو نئے ہیڈ ماسٹر کو لینے کے لئے آئے تھے پہنچ گئے۔جزیرہ پر آ جائیں وہاں سے آپ کو سب کچھ دکھائی دے گا“۔تھرما میٹر ایک سو بیس درجہ پر! اور اوپر سے لباس وہ جس کا ذکر گزر چکا ہے۔بمشکل گرمی سے ہانپتے ہوئے بنگالی کو درجہ میں سے کھینچ کر نکالا گیا۔اسباب سیڑھیاں ہیں جو پانی میں اُترتی ہیں اور لوگ اُن پر بیٹھ کر نہاتے ہیں اور اسی اتر وایا اور لڑ کے کہنے لگے کہ چلئے شہر کو لیکن وہاں نہ موٹر تھا نہ ٹانگہ نہ ثم ثم۔مقام کو بُر کی پوڑی یعنی خدا کی سیڑھی کہتے ہیں، پھر وہ شخص مجھ سے کہنے لگا اسی گرمی اور اسی لباس میں بیچارے بنگالی بابو کوئی ایک فرلانگ بھی پیدل نہ چلے کہ ”ہم یہاں کے مہنت یعنی عبادت کرانے والے پنڈت ہیں۔آپ آج ہوں گے کہ گرمی کے مارے بے ہوش ہو گئے۔لڑکے چار پائی پر ڈال کر اُن کو ہمارے مہمان ہیں آئے میں آپ کو ساری جگہ کی سیر بھی کرا دوں اور پھر شفاخانہ لے گئے تو معلوم ہوا کہ ہیٹ اسٹروک (Heat Stroke) ہے۔سب آپ کا کھانا بھی جیسا ہو گا ہمارے ہی ذمہ ہے میں نے کہا ”اچھا غرض کپڑے اتار دیے گئے۔پانی کے ٹب میں اُن کو لٹا دیا گیا۔سر پر برف رکھی گئی اُس نے گنگا کے اس کنارے کے دُور دُور تک مجھے سیر کرائی اور جب ایک بج ب کہیں جا کر شام تک ہوش و حواس درست ہوئے۔ہوش میں آتے ہی گیا تو ایک مسلمان کی دُکان پر مجھے بٹھا کر تھوڑی سی دیر میں خود ایک خوان دو خیر میں نے اُن کے کہنے پر عمل کیا۔دیکھا کہ دریا کے کنارے چند