آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل)

by Other Authors

Page 64 of 114

آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل) — Page 64

125 124 حضور کہنے کی بات نہیں ہے۔میں نے کہا ”آخر کہے بغیر کیونکر معلوم ہو گا اس طرح سائیں کو رخصت کر کے میں دیر تک سوچتا رہا کہ افسوس کہ تمہاری بات سچ ہے؟ اس پر وہ ایک دوسرے کو اشارے کرنے لگے۔وہ انسان جب گرنے لگتا ہے تو واقعی اسفل السافلین سے ورے دم نہیں لیتا۔اسے کہتا کہ تو کہہ اور یہ اُسے کہتا کہ تو کہہ۔آخر ایک ہمت والا شخص تیار ہوا اور کہنے لگا کہ یہ سائیں ایسی بات کرتا ہے جسے ہم دیکھ نہیں سکتے۔میں نے کہا ”یہی تو میں پوچھتا ہوں کہ کیا کرتا ہے؟ آخر وہ شخص کہنے لگا کہ یہ نجاست (68) بچکی میو ہاسپٹل لاہور کا ذکر ہے کہ 1907ء میں وہاں ایک مریض کا کھاتا ہے؟ میں یہ سُن کر سخت حیران ہوا اور پوچھنے لگا کہ ”یہ نجاست کہاں آپریشن ہوا۔آپریشن کے کچھ دن بعد بیمار کو بچکی شروع ہوگئی۔کئی دن تو ہلکی ہلکی سے لاتا ہے؟ وہ کہنے لگا ”اجی کچھ نہ پوچھئے یہ چلنے سے تو معذور ہی ہے۔رہی۔پھر تیز اور شدید ہوتی گئی۔یہاں تک کہ رات کو اُس کی آواز ہمارے یہیں چار پائی کے پاس برتن میں رفع حاجت کرتا ہے اور اُسی وقت اُسے لقمے گھروں میں پہنچا کرتی تھی۔وہ آواز بھی نہایت مہیب اور لمبی تھی۔یوں معلوم بنا بنا کر اور چبا چبا کر کھا لیتا ہے۔مجھ پر تو یہ سُن کر گویا بجلی گر پڑی مگر سب ہوتا تھا کہ اسی ایک بیچکی میں اس شخص کا دم نکل جائے گا۔مگر ایک دن نہیں۔نے اس کی تصدیق کی میں نے پوچھا۔”سائیں یہ لوگ کیا کہتے ہیں؟ کہنے ایک ہفتہ نہیں تقریباً ایک مہینہ تک یہ ہچکی کا سلسلہ برابر جاری رہا۔بلکہ آواز اُونچی ہی ہوتی چلی گئی۔دوائیاں اور ٹیکے؟ وہ تو جو بھی تھے سب لگ چکے تھے بلسٹر ، بجلی، مکسچر، مارفیا، امیرو پین، نیند آور، اور تشنج دور کرنے والی دوائیں۔و لگا۔”سچ کہتے ہیں۔پھر میں نے کہا تو اپنا فضلہ کھاتا ہے تو تو جانوروں سے بھی گیا گزرا ہے کہنے لگا ”پیر کا ایسا ہی حکم ہے میں نے کہا ”ارے کم بخت کیا تجھے روٹی نہیں ملتی کہنے لگا ”جی ملتی کیوں نہیں۔آپ کی مہربانی سے غرض ڈاکٹروں کے تھیلے میں کوئی ایسی چیزیں باقی نہ رہی جو اس قابل رحم مریض کو دی نہ گئی ہو۔مگر چاول، روٹی، سبزی سب کچھ مل جاتا ہے۔لیکن وہ بھی مرشد کا فرمان دودھ، ہے۔مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی لوگ کہنے لگے۔”جناب عالی یہ اپنی روٹی بھی جو شفا خانہ سے ملتی ایک دن اُس کونے میں جہاں مریض کا پلنگ رہتا تھا عمارت کی کوئی ہے پوری کھا لیتا ہے اور مزید برآں یہ حرکت بھی کرتا ہے۔کئی دن سے ہم مرمت ہونے والی تھی اس لئے وہ پلنگ مع مریض کے کسی دوسری جگہ کر دیا گیا اسے منع کر رہے ہیں مگر باز نہیں آتا۔اس لئے مجبوراً آپ سے رپورٹ کی۔اور مرمت کے بعد پھر وہیں آ گیا۔جب تک وہ شخص نئی جگہ رہا ہچکی بند رہی۔میں نے بہتیرا سائیں سے کہا کہ یہ حرکت چھوڑ دے مگر اُس نے کہا برسوں کی جو نہی اپنی پرانی جگہ پر آیا ہچکی پھر اس زور شور سے شروع ہوگئی۔شام کو جب عادت ہے۔پیر مرشد کی وصیت ہے میں ملامتی ہو کر کس طرح اسے چھوڑ سکتا اُسے پٹی لگنے لگی تب اُس نے یہ بات بتائی، ہم نے کہا اچھا آج تمہارا ہوں؟ آخر میں نے اسے کہہ دیا کہ اب تمہارا زخم تقریباً اچھا ہے۔تم جاؤ اور روازانہ آکر ڈریسنگ کرا لیا کرو۔یہاں رہنے کے قابل نہیں ہو“۔ڈریسنگ باہر برآمدہ کے ڈریسنگ روم میں کریں گے۔غرض اُسے اسٹریچر پر لاد کر اُس دوسرے کمرے میں لے گئے اور واقعی جیسا اُس نے بیان کیا تھا۔