آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل) — Page 63
123 122 66 بالشت چوڑی گھری ہوئی تیار رکھتے ہیں۔ان پر مٹی کی ہانڈیاں قطار در قطار پھرتا تھا۔لوگ بھی اُس کی بڑی عزت کرتے تھے۔کھانا پینا بہ افراط مل جاتا تھا چڑھا دیتے ہیں۔چند لوگ مشکوں سے اُن میں پانی بھر دیتے ہیں۔کچھ آدمی اور مشہور تھا کہ کسی زمانہ میں یہ شخص ریلوے گارا تھا۔ٹرین کے نیچے آکر اس کی اُن میں گوشت ڈال دیتے ہیں۔بعضے نمک مرچ ڈال جاتے ہیں۔گھی کی جگہ دونوں ٹانگیں کٹ گئیں۔اس کے بعد اُس نے فقیرانہ زندگی بسر کرنی شروع کر چربی ہی کافی ہوتی ہے۔پھر اُن نالیوں میں لکڑیوں کے ڈنڈے رکھ کر آگ لگا دی۔دی جاتی ہے۔اور کچھ آدمی ہانڈیوں کا گوشت درختوں کی ٹہنیوں سے ہلاتے ایک دن کیا دیکھتا ہوں کہ وہ سائیں شفا خانہ میں چلا آرہا ہے میں رہتے ہیں تاکہ جل نہ جائے بس دو گھنٹوں کے اندر پانچ سو ہانڈی تیار ہے۔نے پوچھا ”کیونکر اس طرف کا رُخ کیا؟ کہنے لگا ”ایک ٹانگ میں بہت سالن لکڑی کے بڑے بڑے خوانوں میں انڈیلتے جاتے ہیں اور تندوری روٹیاں تکلیف ہے۔چمڑے کی ٹوپی ٹانگ کے سرے پر سے اُٹھا کر دکھائی تو وہاں لے کر کھاتے جاتے ہیں۔ان کے تندور بھی ایسے ہوتے ہیں کہ بیک وقت اُن ایک پھوڑا بن چکا تھا۔میں نے سائیں کو کہا کہ ”شفا خانہ میں داخل ہو جاؤ۔میں تمیں تمہیں روٹیاں لگ سکتی ہیں اور ہر روٹی آٹھ آدمیوں تک کے لئے کافی میں اس کا آپریشن کر دوں گا۔کھانا سرکاری ملے گا۔کوئی تکلیف نہ ہو گی اور ہوتی ہے۔غرض ظہر سے پہلے پہلے ساری قوم کھا پی کر فارغ ہو جاتی ہے۔تھوڑے دنوں میں اچھے ہو جاؤ گے۔وہ راضی ہو گیا اور میں نے اُسے وارڈ ایسے بیاہ شادی کے موقع پر بیسیوں عورتیں اپنے بچوں کو دور دور میں داخل کرا دیا۔دوپہر کو اُس کا آپریشن ہو گیا اور وہ اپنی چار پائی پر جم کر مقیم فاصلوں سے علاج کے لئے وہاں لے آتی ہیں اور ذبح شدہ جانوروں کے گوبر ہو گیا۔میں نے چپڑاسی سے کہہ دیا کہ سائیں جو بھی مانگے وہ اسے کھانے کو جمع کر کے اپنے اپنے بچے اس میں ننگے دفن کر دیتی ہیں صرف منہ کھلا رہنے دید یا کرو۔اور اسے کسی قسم کی تکلیف نہ ہو۔دیتی ہیں اور دودھ پلاتے وقت بچہ پر اوندھی ہو جاتی ہیں۔آٹھ دس گھنٹے بچوں شفاخانہ کے اس وارڈ یعنی بڑے کمرے میں چو میں چار پائیاں تھیں کو اس طرح رکھنا اُن کی آئندہ صحت کے لئے نہایت مفید سمجھا جاتا ہے۔گویا اور سب کی سب بیماروں سے بھری رہتی تھیں۔سائیں کا روزانہ ڈریسنگ ہوتا ٹیکہ لگا دیا گیا ہے۔(67) ملامتی صوفی تھا۔یہاں تک کہ اس کا زخم قریباً اچھا ہو گیا۔ایک دن جب میں صبح کو شفاخانہ کا گشت لگا رہا تھا تو کیا دیکھتا ہوں کہ سارے بیمار یا تیماردار اُس وارڈ کے اپنے اپنے پلنگ کے پاس ہاتھ جوڑے کھڑے ہیں۔میں نے کہا ”آج کیا بات لائل پور میں بازار کے ایک درخت کے نیچے ایک اُدھیڑ عمر کا فقیر یا ے؟ وہ کہنے لگے حضور کچھ عرض نہیں کر سکتے“۔میں نے کہا ”آخر کہو تو سائیں مع اپنے کچھ مختصر سامان کے پڑا رہتا تھا اُس کی دونوں ٹانگیں گھٹنوں معاملہ کیا ہے؟ کہنے لگے کہ ہمارے لئے اب اس وارڈ میں ٹھہرنا مشکل کے نیچے سے کئی ہوئی تھیں۔اور جو ٹھنڈ تھے ان پر گول گول چڑے کے خول ہے۔یا تو سائیں جی کو آپ کسی اور جگہ منتقل کر دیں یا ہمیں ہی دوسرے وارڈ بطور جوتیوں کے چڑھے رہتے تھے۔اُن کٹی ہوئی ٹانگوں سے وہ فقیر خاصہ دوڑتا میں بھیج دیں۔میں نے کہا: ”سائیں تمہارا کیا بگاڑتا ہے؟ ایک شخص بولا کہ