آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل)

by Other Authors

Page 62 of 114

آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل) — Page 62

121 120 میں یہ سُن کر سخت متعجب ہوا مگر ہر ملکے و ہر رہے۔اہل مقدمہ جب صبح کی ٹرین سے وہاں اترا کرتے تھے تو ریفرشمنٹ روم کے خانساماں سے یہ کہہ کر شہر کی طرف جایا کرتے تھے کہ ”ہم کچہری سے دو بجے آئیں گے تم ہمارے لئے کھانا تیا رکھنا۔ہم پانچ آدمی ہیں۔پانچ مرغوں کے (65) لاہور کا بچہ پنجاب کے تمام ضلعوں میں لائکپور کا ضلع سب سے زیادہ امیر اور کباب بنا رکھنا۔کچھ مچھلی ہو کچھ کٹلٹ ہوں، باقی پراٹھے نیز ایک درجن سوڈے خوشحال ہے۔اور خود لائکپور کا شہر بھی لاہور کا بچہ ہی ہے۔جو چیز امرتسر، کی بوتلیں اور دو بوتل اول درجہ کی شراب اور دیکھنا کہیں برف نہ بھول جانا۔یہ سب چیزیں وقت پر تیار رہیں۔یہ تھا وہاں کی دولت کا کھیل جو میں نے 1924ء میں اپنی آنکھ سے دیکھا۔(66) بلوچی رسوم بلوچی اقوام کی معاشرت بھی عجیب ہے۔میں جب نیا نیا اُن کے ملتان، راولپنڈی یا جالندھر میں نہ مل سکے وہ عام طور پر لائکپور میں مل جاتی ہے۔دیہات تک کی مرفہ حالی کی یہ کیفیت ہے کہ ایک دفعہ مجھے ایک سکھ جو بالکل معمولی حیثیت کا تھا بُلا کر اپنی والدہ کی بیماری کے مشورہ کے لئے شہر سے چار میل کے فاصلہ پر اپنے گاؤں میں لے گیا گاؤں میں اس کی معمولی حیثیت کی ایک دیہاتی حویلی تھی۔اندر زنانہ مکان تھا اور باہر مردانہ۔میں نے مریضہ کو دیکھا۔اور جب روانہ ہوتے وقت تانگہ پر بیٹھنے لگا تو وہ سکھ علاقہ میں پہنچا تو دیکھا کہ مرد بھی عورتوں کے برابر لمبے لمبے بال رکھتے ہیں۔ہاتھ جوڑ کر کھڑا ہو گیا۔کہ ” مہربانی کر کے لنسی تو پیتے جائیں۔چھاویلہ دوسرے اُن کے ہاں یہ رواج ہے کہ جب بھی اور جہاں بھی کوئی آدمی کسی چھاچھ پینے کا چاشت کا وقت) ہے ہم غریب کسان ہیں ہماری عزت دوسرے سے ملتا ہے تو دونوں ایک دوسرے سے حال لیتے اور دیتے ہیں اور ہر متنفس کی حتی کہ گھوڑی، گدھی، بیل، بکری، کتے، بلی تک کے نام بنام ایک افزائی ہو جائے گی“۔یہ کہہ کر اُس نے ڈیوڑھی میں جو میز پڑی تھی اُس پر سے چادر ہٹائی دوسرے سے خیریت پوچھتے ہیں۔نا محرم عورتیں غیر مردوں سے معانقہ کرتی تو کیا دیکھتا ہوں کہ نہ تو وہاں کسی ہے نہ کٹورا نہ نمک بلکہ اُن کی جگہ شیشے کے ہیں۔بلکہ دن کے وقت ایک چار پائی پر اُن کے ساتھ لیٹ بھی جاتی ہیں اور مکلف گلاس، نفیس پرچ پیالیاں، وہسکی کا ادھا، سوڈے کی تین بوتلیں، برف کا مخفی مخفی بردہ فروشی کا سلسلہ بھی جاری ہے۔عورتیں اسبغول بھگو کر اپنے سر کے ایک جنگی ڈلا ، ولایتی بسکٹوں کا بنڈل، چائے مکھن اور پھلوں کی ایک ٹرے رکھی بال چپکاتی ہیں۔اور مہمان داری کے وقت میں نے ایک ایک روٹی اُن کے ہے۔یہ تھی لائک پور کے ضلع کی لسی مگر میری طبیعت شراب کو دیکھ کر بہت منقض ہاں کی ایسی دیکھی ہے جسے آٹھ آدمی کھا سکتے ہیں۔کسی رئیس کے ہاں شادی ہوئی اور میں یہ کہہ کر چلا آیا کہ سردار جی میری داڑھی کا اور تمہاری اس میز کا بیاہ ہو تو عجیب سماں ہوتا ہے۔سینکڑوں گائیں، بکرے اور بھیڑیں پانچ منٹ کوئی جوڑ نہیں“۔میں ذبح ہو کر کٹ کر تیار ہو جاتی ہیں۔نہ کوئی قصاب آتا ہے نہ قصائی۔بڑے اسی طرح میں نے لائل پور کے اسٹیشن پر دیکھا کہ معمولی حیثیت کے بچے اور عورتیں مل کر یہ کام کر لیتے ہیں۔پھر کئی نالیاں فٹ بھر گہری اور ایک