آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل) — Page 49
95 94 (47) غیبی امداد 1915ء میں میرا تبادلہ جالندھر سے پانی پت کا ہو گیا۔اسباب مال گاڑی میں چلا گیا تھا۔اب معمولی پیکنگ ساتھ والے سامان کا ہو رہا تھا اور میں دس (10) بجے دن کے اکیلا اپنے مردانہ برآمدہ میں ایک بکس میں کیلیں ٹھونک رہا تھا کہ ایک نوجوان لالہ صاحب جن سے میں قطعاً ناواقف تھا سلام کر کے میرے پاس آ کھڑے ہوئے۔لالہ:- مہاراج مجھے کچھ تکلیف ہے۔میں :۔بھئی میں تو آج ہی شام کی گاڑی سے اس شہر سے جا رہا ہوں آپ کسی اور ڈاکٹر کی طرف رجوع کریں۔لالہ : - یہ تو میں بھی سُن چکا ہوں۔آپ علاج نہیں کر سکتے تو صرف مشورہ ہی دے دیجئے۔یہ کہہ کر اُس نے پانچ روپیہ کا نوٹ میرے سامنے والے بکس پر رکھ دیا۔میں : - مشورہ بھی کسی مقامی ڈاکٹر سے لینا ہی مناسب ہو گا۔آپ نا حق کی تکلیف نہ کریں اور یہ نوٹ اُٹھا ئیں۔لالہ: ایک نوٹ پانچ روپیہ کا اور سامنے رکھ دیا) اُن سے بھی مشورہ لے لوں گا۔مگر آپ بھی اگر مجھے صحیح رستہ پر ڈال دیں تو کیا ہرج ہے۔میں :۔میں نہیں سمجھ سکتا کہ اتنی جلدی میں میں کیا مشورہ دے سکتا ہوں اور آپ کس بات کے متعلق مشورہ مانگتے ہیں؟ لالہ:- ایک اور نوٹ سامنے رکھ کر مجھے ایک تکلیف ہے۔میں : - کیا؟ لالہ:- ایک دوسرا نوٹ آگے رکھ کر میرے پیٹ کے دائیں طرف نیچے کو چلتے پھرتے ایک گولہ سا اُبھرتا ہے۔میں : - دکھایئے۔لالہ:- ایک پانچ روپے رکھ کر یہ ہے وہ گولہ۔میں :۔ذرا کھانئے زور سے۔اس پر لالہ صاحب پانچ روپے کا ایک اور نوٹ سامنے رکھ کر زور سے کھانسنے لگے۔ہے۔میں : - کیا جب آپ لیٹتے ہیں تو یہ گولہ دب کر غائب ہو جاتا ہے؟ لالہ : ایک اور پنجہ رکھ کر) ہاں اس وقت بالکل غائب ہو جاتا - میں :۔میرے نزدیک آپ کو فتق ہے۔لالہ: - ( پانچ روپے رکھ کر ) فتق کیا؟ میں : - جسے انگریزی میں ہرنیا کہتے ہیں۔لالہ:- ( پانچ روپیہ پیش کر کے ) میں ہر نیا بھی نہیں سمجھا۔میں :- آپ کے ہاں غالباً اسے ٹل اترنا کہتے ہیں۔لالہ:- ( پانچ روپیہ اور رکھ کر ) سُنا تو ہے مگر سمجھا نہیں۔میں : - انتری پیٹ کے باہر اترنے لگتی ہے۔لالہ:- ( پھر پانچ روپیہ پیش کر کے ) تو یہ انتڑی ہے؟ میں : ہاں انتڑی ہے۔جبھی تو گڑ گڑ کرتی اُترتی اور چڑھتی ہے۔لالہ:- ( پانچ روپیہ کے ساتھ ) پھر اب اسے کیا کروں؟ میں :۔مناسب ہو گا کہ آپ اس کا آپریشن کرا لیں۔الالہ:- (بمعہ پانچ روپیہ) میں آپریشن؟ میں :۔جی ہاں آپ کا علاج تو آپریشن ہی ہے۔