آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل)

by Other Authors

Page 46 of 114

آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل) — Page 46

89 88 بات کا پتہ لگانا شروع کیا کہ میرے متعلق رپورٹ کس نے کی ہے؟ کیونکہ اُس پر حملہ شروع کر دیا۔اتفاقاً ایک مسافر دُور راستہ پر سے گزر رہا تھا اُس کے دیکھنے والا تو کوئی تھا نہیں۔آخر دفتروں اور کچہریوں سے کسی مخبر کی معرفت یہ ہاتھ کا نسٹیبل نے تھانہ میں پیغام بھیجا کہ میں یہاں محصور ہو گیا ہوں۔اور میری پتہ لگ گیا کہ آپ کی مسجد کے مُلا صاحب ہی کی یہ کارستانی ہے۔اور خط پر زندگی خطرہ میں ہے تھانہ سے فورا مدد بھیجی جائے۔اس پر تھانہ سے پولیس کے اُسی کا نام ہے۔پھر تو رئیس نے فوراً کئی چشم دید گواہ قتل کے کھڑے کر دیئے۔بہت سے سپاہی بندوقوں سے مسلح ہو کر آئے اور باقاعدہ فائرنگ شروع ہوا۔بہت سے گدھ مارے گئے اور بہت سے زخمی ہوئے۔تب جا کر کہیں بڑی مشکل سے اس سپاہی کو خلاصی ملی۔جنہوں نے بیان دیا کہ ہمارے سامنے ان مُلا صاحب نے جنگل میں یہ قتل کیا ہے۔مقدمہ ابتدائی عدالت میں گیا۔پھر سیشن میں اور بالآخر عدالت عالیہ میں مگر خون ملا جی پر ہی ثابت رہا۔سب گواہ بڑے پختہ تھے۔آخر ملا صاحب کو گدھ عموماً انسانوں پر حملہ نہیں کرتے۔اس لئے یہ امر بالکل پھانسی ملی۔کسی نے اُن سے پوچھا ”ملا جی یہ کیا اندھیر ہے؟ تو کہنے لگے غیر معمولی تھا۔اور محاصرہ کر لینا تو ایک عجیب سی بات تھی۔حتی کہ مسلح پولیس کی بات یہ ہے کہ جوانی میں میں نے بھی ایک قتل کیا تھا جو اب تک مخفی رہا تھا۔یہ امداد سے اس کانسٹیبل کی جان بچی۔یہ اب یاد نہیں رہا کہ اُس نعش کی موت کا اُس کا بدلہ ہے۔مثل مشہور ہے کہ ”خدا کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں“۔(44) گدھوں نے گھیر لیا۔کیا باعث تھا۔(45) آو مظلوماں کا اثر عموماً ہندوؤں میں شادی پر بہت روپیہ خرچ ہوتا ہے۔دہلی کے رہتک کے ضلع کے کسی گاؤں کا ذکر ہے کہ وہاں ایک آدمی نے قریب کے تھانہ میں رپورٹ کی کہ ”ہمارے علاقہ کے جنگل میں ایک آدمی مرا مضافات میں ایک ڈاکٹر صاحب تھے اُن کے شفاخانہ کے پاس ہی برہمنوں کی پڑا ہے۔میں نے راستہ سے ذرا ہٹ کر اُس کی لاش دیکھی ہے۔ممکن ہے کہ گلی میں ایک غریب برہمن کے ہاں لڑکے کی شادی قرار پائی۔کئی ہزار روپیہ قتل کی واردات ہوا۔اس پر تھانہ دار نے ایک کانٹیل کو دریافت حال اور اُن لوگوں نے ایک لڑکی حاصل کرنے میں خرچ کیا۔کھو کھلے تو تھے ہی اور زیادہ تفتیش کے لئے اُدھر روانہ کر دیا۔جب شام کو رپورٹر وہاں سے گزرا تھا تو لاش مفلس ہو گئے۔دلہن خاصے متمول گھرانے کی تھی اور پھر ناز پروردہ۔سسرال میں کے پاس کوئی جانور نہ تھا۔مگر جب کانسٹیبل وہاں پہنچا تو صبح کو بہت سے گدھ دن کے دس (10) بجے چنگی بھلی آئی اور شام کو بے ہوش ہو گئی۔ان غریب نعش کے نزدیک جمع ہو چکے تھے۔سپاہی نے اُس کے پاس پہنچنے کی کوشش کی پنڈتوں نے کبھی ایسی بات دیکھی نہ تھی۔سخت گھبرا گئے۔ڈاکٹر صاحب چونکہ مگر گدھوں نے پہنچنے نہ دیا بلکہ حملہ کر کے ہر دفعہ اُسے ہٹا دیا۔آخر دو پہر کے نزدیک ہی رہتے تھے فوراً انہیں بلا لائے۔وہ ابھی معائنہ ہی کر رہے تھے کہ قریب ان گدھوں نے سپاہی کو بھی اپنے نرغہ میں لے لیا۔جس میں سے باوجود ساس سر رونے پیٹنے لگے۔اور بار بار ڈاکٹر صاحب سے پوچھتے تھے کہ ” بہو سخت کوشش کے وہ باہر نہ نکل سکا۔ذرا وہ سپاہی اپنی جگہ سے ہلا اور گدھوں نے بچ تو جائے گی؟ لڑکی کی کوئی امید بھی ہے یا نہیں ڈاکٹر صاحب ہم سے