آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل)

by Other Authors

Page 41 of 114

آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل) — Page 41

79 78 معمول کرا دیں۔صابر و شاکر نظر آتا تھا۔میں نے کہا: تمہیں یہ حادثہ کیونکر پیش آیا؟ کہنے لگا خیر رات تو جوں توں کر کے گزری۔دن چڑھا تو میں نے اُسے بے ڈاکٹر صاحب! آخر کسی دن یہ پیش آنا ہی تھا۔سو آج ہی آ گیا۔معاملہ یہ ہے ہوش کر کے دونوں ٹانگیں گھٹنوں پر سے کاٹ ڈالیں۔پھر مریض کو چھپر وارڈ کہ میں پرانا ریلوے چور ہوں یعنی گاڑی میں چوری کیا کرتا ہوں میرا علاقہ میں جو میرے مکان سے زیادہ قریب تھا رکھ دیا۔اور میں خود شفاء خانہ کا کام بارہ سال سے یہی دہلی کا لکا لائن ہے۔پولیس شروع سے ہی میرے پیچھے لگی کرنے پر لی طرف چلا گیا۔دو (2) بجے گھر میں آیا۔وہ رمضان کا مہینہ تھا۔ہوئی تھی مگر میں آج تک پکڑا نہیں گیا تھا۔لیکن آج پولیس نے نہیں بلکہ خدا میری بیوی نے سُنایا کہ ایک شخص نے مجھے ہمارے نوکر کے ہاتھ پیغام بھیجا کہ نے پکڑ لیا۔میں نے کہا: ”کیا بات ہوئی؟ کہنے لگا ” گیارہ بجے شب کو بیگم صاحب سے عرض کر دو کہ ایک ریلوے چور ہسپتال میں آیا ہوا ہے اُس کی ڈاک یہاں کے اسٹیشن پر پہنچتی ہے۔اُس وقت انگریز لوگ ریل میں سونے کی دونوں ٹانگیں آپ کے ڈاکٹر صاحب نے کاٹ دی ہیں۔وہ کہتا ہے کہ مجھے تیاری کرتے ہیں۔اور اُن کے بیرے جو نوکروں کے کمپارٹمنٹ میں ہوتے دودھ تو مل گیا ہے مگر کچھ برف اور آم درکار ہیں آپ فوراً ان دونوں کا انتظام ہیں۔انہیں شب بخیر کہنے فسٹ کلاس گاڑی میں جایا کرتے ہیں حسب۔آج بھی جب نوکروں کا خانہ خالی تھا اور خانساماں وغیرہ اپنے صاحب لوگوں کی میری بیوی کو چونکہ گزشتہ رات اس کے شفا خانہ میں داخل ہونے اور گاڑیوں میں گئے ہوئے تھے تو میں سرونٹ کے خانہ میں چڑھ گیا وہان دو (2) اس کی قابلِ رحم حالت وغیرہ کا علم تھا اس لئے اُس نے جھٹ پٹ یہ دونوں کوٹ ٹنگے ہوئے تھے۔اُن کی جیبوں میں جلدی جلدی ہاتھ مار کر میں نے چیزیں بازار سے منگوا کر اُسے بھیج دیں۔بس پھر کیا تھا پانچ پانچ منٹ کے بعد گھڑیاں اور نقدی کے بڑے نکالے اور دوسری طرف سے دروازہ کھول کر فٹ پیامبر آتا تھا۔بیگم صاحب کو کہہ دو کہ ایک گلاس میرے لئے بھیج دیں۔بیگم بورڈ پر کھڑا ہو گیا۔اتنے میں ڈاک گاڑی چل دی۔پلیٹ فارم کی طرف سے صاحب کو کہہ دو کہ ذرا سا نمک بھیج دیں“۔بیگم صاحب کو کہہ دو کہ ایک تولیہ وہ خانساماں لوگ اپنے خانہ میں داخل ہوئے اور میں نے دوسری طرف سے مجھے درکار ہے“۔بیگم صاحب سے کہہ دیں کہ کوئی عمدہ عطر ہو تو کچھ بھیج زمین پر چھلانگ لگائی۔مالِ غنیمت میرے پاس تھا ہی مگر قسمت میں نہ لکھا تھا۔دیں۔کلوروفارم کی بدبو سے دماغ پریشان ہے“۔بیگم صاحب سے کہہ دیں کہ چھلانگ لگاتے ہی پاؤں میں سگنل کا تار اُلجھ گیا۔چکرا کر لوٹ پوٹ ہو گیا۔مگر الا بچی ڈال کر ایک پان تمباکو والا بھیج دیں۔گردن اور دھڑ کی جگہ دونوں ٹانگیں ریل کے نیچے کچلی گئیں پھر بھی خیریت غرض دو گھنٹوں میں دس مطالبات اس کے بیگم صاحبہ کی خدمت میں گزری میری چیچنیں سُن کر گاڑی کھڑی کر دی گئی۔اتنے میں صاحب لوگوں کے پہنچ گئے اور پورے بھی کر دیے گئے جب میں گھر آیا تو یہ سب حال معلوم ہوا۔نوکروں کو بھی اپنی چوری کا علم ہو گیا اور سارا معاملہ ریلوے پولیس پر کھل گیا۔میں نے کہا: یہ شخص پہلے چوریاں کیا کرتا تھا۔اب اُس نے ڈاکہ ڈالنا شروع مجھے ڈریسنگ کر کے ریلوے ڈاکٹر نے آپ کے پاس بھیج دیا۔اگر بچ گیا تو جو کر دیا ہے۔میں نے اُس کے لئے ہر چیز کا بارام کا بندوبست کر دیا ہے تم اس بد معاش کو منہ نہ لگاؤ۔کہ اتنے میں چھپتر وارڈ میں سے ہمارے گھر کے قریب مقدمہ چلے گا سو چلے گا ہی۔