آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل)

by Other Authors

Page 25 of 114

آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل) — Page 25

47 46 لئے موزوں ہوتے ہیں آپ احتیاطاً بچے کی قبر پر دو مضبوط آدمیوں کا پہرہ بٹھا گئے اور لٹھ لئے دبے پاؤں پیچھے سے ان عورتوں کے سر پر پہنچ گئے۔دیں۔تا کہ کوئی اس کی نعش کو خراب نہ کر سکے۔چنانچہ لالہ جی نے گھر جا کر دو ہمراہی عورت نے جو فاصلہ پر بیٹھی تھی اُن کو مع ان کی لاٹھیوں کے مسلمانوں کو اس کام کے لئے بھیج دیا کہ رات بھر مرگھٹ میں پہرہ دیں۔اُس دیکھ لیا اور سرپٹ شہر کو بھاگی اُدھر ان پہرہ داروں نے یک دم دونوں عورتوں دن آندھی اور تاریکی بھی بہت تھی۔وہ پہرے دار قبر سے کسی قدر فاصلہ پر بیٹھ کے سر پر اپنے ڈنڈے برسانے شروع کر دیے اور مار مار کر بھرکس نکال دیا۔گئے اور موٹی موٹی لاٹھیاں اپنے پاس رکھ لیں۔خدا کا کرنا کیا ہوا کہ کسی بڑھیا حتی کہ وہ بے ہوش ہو گئیں۔پھر یہ خیال کر کے کہ کہیں کسی مقدمہ میں نہ عورت نے نند بھاوج سے جا کر کہا کہ ”آج تہوار کا دن ہے اور ایک لڑکا پکڑے جائیں وہاں سے بھاگ گئے۔ان عورتوں کی رفیقہ نے جو قبرستان فلانے لالہ کا مرکز یہاں کے مرگھٹ میں دفن کیا گیا ہے۔اگر لاجونتی اولاد بھاگی تھی اور انہیں مار کھاتے بھی دیکھ لیا تھا۔سیدھا شہر میں آکر دم لیا اور گھر چاہتی ہے تو آج موقع ہے تم دونوں مرگھٹ میں جا کر اور قبر اکھیڑ کر اُس بچہ کو والوں سے کہا کہ شانتی اور لاجونتی ماری گئیں۔پھر اُن کا سب حال مفصل سُنایا۔نکالو۔پھر لاجونتی بچہ کے منہ میں اپنا پستان بطور دودھ پلانے کے دے اور اتنی اس پر اُن عورتوں کے گھر والے مرد لاٹھیاں لے کر مرگھٹ کی جانب دوڑے دیر یہ منتر پڑھتی رہے۔پھر بچہ کو زمین پر لٹا کر اُس کی چھاتی پر بیٹھ کر خود اشنان گئے اور لالٹینوں کی روشنی میں دیکھا کہ دونوں عورتیں بے ہوش پڑی ہیں۔کرے۔بعد ازاں اُسے وہیں دفن کر کے چلی آوے۔یہ نسخہ اولاد ہونے کے لاجونتی تو بالکل برہنہ ہے کیونکہ اشنان کر کے مُردہ بچے کو دودھ پلا رہی تھی اور لئے بے خطا ہے۔ایک سال کے اندر اندر اُس کے ہاں بالک ضرور پیدا شانتی کے بدن پر کپڑے موجود ہیں اور بچہ بھی وہیں قبر سے باہر پڑا ہے۔اتنے ہو جائے گا۔یہ ترکیب اُس غریب عورت سے سُن کر وہ دونوں فوراً تیار ہو میں اُن پہریداروں نے جو بھاگ گئے تھے لالہ جی سے جو متوفی بچہ کے باپ گئیں کہ اس پر عمل کریں۔شانتی تو بیوہ تھی وہ ہمراہی کے طور پر اور لاجونتی تھے اسی وقت آدھی رات کو جا کر سارا معاملہ عرض کر دیا۔وہاں سے لالہ جی اولاد کی امیدوار کے طور پر رات کو دس بجے مرگھٹ کی طرف اُسی عورت کے نوکروں کا ایک لشکر اور کچھ لالٹینیں لے کر مسان آ پہنچے۔آگے دیکھا تو ایک ہمراہ روانہ ہوئیں اور ایک بالٹی پانی کی اُسے اُٹھوا دی تا کہ اشنان کیا جا سکے۔پارٹی برہمنوں کی پہلے سے موجود تھی وہاں جا کر ساری حقیقت کھلی۔رات کو گیارہ بجے کے قریب اُن دو پہریداروں نے ان تینوں عورتوں کو آتے پہلے تو فریقین میں خوب تو تو میں میں ہوئی پھر یہ دیکھ کر کہ دونوں دیکھ لیا۔ایک مدہم سی لالٹین عورتوں کے پاس تھی۔اُس بڑھیا نے بچہ کی قبر اُن خاندان شہر کے رئیس اور معزز لوگ ہیں۔اور اصلی غلطی اور جرم اُن طالب اولاد کو دکھا دی اور خود کوئی سو گز پیچھے ہٹ کر آ بیٹھی۔شانتی اور لاجونتی نے قبر کی عورتوں کا ہی ہے۔آخر میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ چلو جو ہوا سو ہوا۔اب اس مٹی ہٹا کر اس مُردہ بچے کو نکالا پہلے اُس کی چھاتی پر بیٹھ کر لاجونتی نے اشنان معاملہ کو طول نہ دیا جاوے۔بلکہ بڑے لوگوں کی عزت کی خاطر دبا دیا جاوے کیا۔پھر اُسے گود میں لے کر اپنی چھاتی اُس کے منہ میں دے کر بیٹھ گئی۔اتنے چنانچہ ایسا ہی ہوا۔اگر چہ شانتی ایک ماہ اور لاجونتی تین ماہ تک بستر پر پڑی میں وہ پہریدار جو پہلے ایک طرف ڈر کر چھپ گئے تھے۔سارے معاملہ کو سمجھ اپنے زخموں پر پٹیاں لگواتی رہیں۔