آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل) — Page 24
45 44 مخلوق کی خیر خواہی کے سوا اور کوئی کام نہیں ہمارے تجربہ میں دیانت اور خانه نزدیک اور ریل چلنے کو تیار غرض وہ اور اُن کا سامان دونوں چڑھ گئے مگر اُنہوں نے بھی قلی کو ایک پیسہ نہ دیا۔اور یہی کہتے رہے کہ "بابو کے حکم سے تم ایمانداری سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں آئی۔غرض تھوڑی دیر میں انہوں نے مسافروں پر اپنا سکہ جما لیا۔اتفاق اسباب لائے ہو ان سے پوچھو۔میں غریب بچارہ تم کو کیوں کر پیسے دوں“۔ایسا ہوا کہ ڈاک گاڑی ایک گھنٹہ کے بعد کسی ٹکٹ چیکنگ اسٹیشن پر ٹھہری اور غرض قلی بھی روتا پیٹتا چلا گیا۔اور ہمارے درجہ والوں نے پھر جو اُن چیکر بلائے بے درماں کی طرح ہمارے خانہ میں آ گھسا۔سب کے ٹکٹ کی نقلیں کرنی شروع کیں۔تو کئی اسٹیشن تک اُنہی کا ذکر خیر جاری رہا۔(20) اولاد کی خواہش دیکھے، انٹر کلاس کے تھے۔اُن صاحب کو جو دیکھا تو تھرڈ کا۔ہمراہی سب حیران ہو کر ہنسنے لگے کہ ابھی تو اپنی ساری عمر کا تجربہ، دیانت اور ایمانداری کو بتا رہے تھے اور اب سارے خانہ میں یہی بددیانت اور بے ایمان ثابت ہو رہے ہیں۔واہ ری دُنیا! اور واہ رے اس کے جُھوٹ !! جهاندیده بسیار گوید دروغ سرسہ ضلع حصار کا 1915ء کا ذکر ہے کہ ایک دن ایک معزز گھرانے کی دو خاتو نیں بہت بُری طرح پٹی ہوئی میرے ملاحظہ اور علاج کے لئے لائی گئیں۔کئی ہڈیاں اُن کی شکستہ تھیں اور ایک کے سر پر تو لاٹھیوں کے پانچ چھ ٹکٹ کلکٹر نے اُن سے پوچھا کہ ”آپ کا ٹکٹ تو تھرڈ کا ہے اور بڑے بڑے زخم بھی تھے اور دونوں کے بدن ڈنڈے کی مار سے نیلے ہو رہے بیٹھے ہیں انٹر میں؟ فرمانے لگے۔” بھائی! ہم ان پڑھ انگریزی سے ناواقف تھے۔خیر میں نے ان کو دیکھا۔پولیس کو رپورٹ بھیجی ڈریسنگ وغیرہ کیا اور دیہاتی لوگ بھلا کیا جانیں کہ انٹر کیا بلا ہوتا ہے۔اور تھرڈ کیا۔میں تو سمجھا نہیں، بہت دنوں تک جب تک وہ اچھی نہ ہوئیں اُن کا علاج کرتا رہا۔اب سارا آپ ہی سمجھا دیجئے۔اس پر اور قہقہہ پڑا۔پھر کہنے لگے۔”میں نے ٹکٹ واقعہ اُن کی مصیبت کا مختصر طور پر لکھتا ہوں۔کے پیسے کسی اپنے عزیز کو دیے تھے وہ یہاں بٹھا گیا ہے۔میں کیا جانوں مجھے یہ دونوں عورتیں برہمن اور آپس میں نند بھاوج تھیں۔نند بیوہ تھی کہاں بیٹھنا چاہئے۔ٹکٹ بابو کو کچھ شرم آ گئی۔اُس نے کہا کہ اس گاڑی فرض کرو اُس کا نام شانتی تھا۔اور بھاوج سہاگن تھی مگر بے اولاد فرض کرو اس سے اُتر و اور دوسرے خانہ میں جا کر بیٹھو۔فرمانے لگے۔”تو پھر آپ کو مجھے کا نام لاجونتی تھا۔شہر میں ایک رئیس کا بیٹا ایک سال کی عمر کا اتفاقاً فوت ہو جہاں بٹھانا ہے بٹھا دیجئے میں تو کچھ جانتا نہیں۔بابو اُن کو ہاتھ پکڑ کر لے گیا۔اُس دن دیوالی تھی۔ہندوؤں میں بڑی عمر کے لوگ مرنے پر جلائے چلا۔تو کہنے لگے۔اور میرا اسباب؟‘ غرض بیچارے بابو نے قلی کو بلا کر اُس جاتے ہیں مگر بچے اور سادھو دفن کئے جاتے ہیں۔پر اُن کا اسباب لا دا اور کہا کہ ”جا ان کو تھرڈ کے خانہ میں بٹھا دے۔کہنے لگے چنانچہ اُس لڑکے کو بھی شہر سے ایک میل کے فاصلہ پر ہندوؤں کی ”بابو جی مجھے غریب کے پاس تو قلمی کو دینے کے لئے پیسے بھی نہیں ہیں۔سرکار شمشان بھومی میں دفن کر دیا گیا۔ساتھ ہی کسی نے اُس رئیس سے یہ بھی کہلایا ہی مجھے چڑھائے گی۔تو کام بنے گا“۔اُن کا اسباب قلی کے سر پر تھا۔تھرڈ کا کہ لالہ جی آج ہندوؤں کا بڑا تہوار ہے ایسے موقعے جادو ٹونے وغیرہ کے