آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل) — Page 20
37 36 کی چھابڑی میں اچھے اچھے پھل بھی دیکھے ہیں مگر وہ ہمارے ان دوست کو تو سے آٹھ آنہ کی جگہ ہیں آنہ وصول کروں گا۔گاڑی کے مسافر ہنس پڑے ایک نے تو کہہ دیا کہ وہ تو آپ کا بھی اُستاد نکلا“۔فرمانے لگے ”میں اس خبیث سے وصول کر کے چھوڑوں گا۔پیسوں کا فکر نہ کیجئے۔لوکاٹ کھائیے۔دیکھئے فریب دے کر چلتا ہوا۔اب ذرا اسے پھر آ لینے دیں۔اس پر چند آدمیوں نے کہا کہ ”ہاں! ضرور آپ ہی ہمیں ایک ایک دونا خرید دیں اور یہ لیس پیسے۔چنانچہ کئی طرف سے پیسے اُن کی خدمت میں میں نے کیسا اول درجہ کا پھل لے کر دیا ہے۔ان صاحب کے لوکاٹ تو بالکل پیش ہوئے۔فرمانے لگے ٹھہر جاؤ! میں سب سے حساب کر کے لے لوں گا۔تھرڈ کلاس تھے۔تھرڈ کلاس“۔فی الحال میں اپنا روپیہ لوکاٹ والے سے بھنا لوں۔اولوکاٹ والے! ادھر آ ہم یہ کہہ کر انہوں نے اپنے دونوں ہاتھ آگے بڑھائے اور کہا ” صاحبان کو آٹھ رونے آٹھ آنہ کے دے دے۔اور دیکھ (ایک لوکاٹ کی طرف اشارہ اپنا اپنا رونا اُٹھا لیجئے۔یہ سُن کر اُن کے پاس والے مسافر نے اوپر کا دونا کر کے سب لوکاٹ ایسے عمدہ اور نفیس ہوں اوّل درجہ کے ورنہ تیری رپورٹ کر اُٹھالیا۔جب دوسرے نے ہاتھ بڑھایا تو نمبر دو دونے کو جو پہلے کے نیچے تھا بالکل خالی پایا۔ہیں یہ کیا بدذاتی" تیسرا بھی خالی سور کا بچہ ! چوتھا بھی خالی کتا! دوں گا“۔لوکاٹ والے نے اچھا کہہ کر اُن سے روپیہ لے لیا اور کہنے لگا کہ پانچواں بھی خالی کنجر! چھٹا بھی خالی بہن کی گالی ساتواں بھی خالی ماں کی گالی! ” مجھے روپے کی ریز گاری بھی کسی سے لینی ہے اور لوکاٹ بھی چھانٹ کر اوّل بس صرف اُوپر والا دونا عمدہ لوکاٹوں سے بھرا تھا۔گاڑی میں بھر نکل چکی تھی۔درجہ کے دینے ہیں۔یہاں گاڑی کے پاس تو بھیڑ ہے۔ذرا سامنے نلکا کے پورے سات دو نے خالی اور آٹھ آنے کے پیسے الگ ہضم ! پاس بیٹھ کر رونے نئی طرح کے بنا کر لاتا ہوں۔اور ریز گاری کا بندوبست بھی کرتا ہوں“۔آگے میں بیان نہیں کر سکتا۔آپ خود ہی خیال کر لیں کہ کس قدر اُس شخص کی حالت غصہ اور شرم کے مارے ہوئی ہو گی۔اور درجہ والوں کا یہ حال غرض سب کی نظر کے سامنے ہی کچھ فاصلہ پر وہ لوکاٹوں کی سارٹ کہ ہنس ہنس کر پسلیاں دُکھنے لگیں۔(16) تھیئیٹر کا چسکا میرا لاہور میڈیکل کالج میں آخری سال ڈاکٹری کا تھا میں اور میرا Sort کرنے لگا اور انتظار کرنے لگا کہ کب گارڈ جھنڈی ہلائے۔گاڑی چھٹنے ہی کو تھی کہ خریدار صاحب نے پھر چیخنا شروع کیا۔یہاں تک کہ گاڑی حرکت میں آگئی۔لوکاٹ والا بھی پیچھے بھاگا۔اُس کے دونوں ہاتھوں میں آٹھ دونے اوپر نیچے رکھے ہوئے تھے جو دوڑ کر اُس نے خریدار کے ہاتھ میں پکڑا دیے اور ایک ملازم چراغ نامی چوک متی کے ایک مکان میں رہتے تھے۔جاڑے کا موسم چلتا ہوا۔اب یہ صاحب چلائے ”ارے او اٹھنی تو دے جا۔او بدمعاش میری تھا کہ میرے دو مکرم عزیز اپنے وطن سے لاہور اس نیت سے آئے کہ ایک ہفتہ اٹھنی جلدی لا اٹھنی۔مگر دکاندار نے سنی ان سنی کر دی۔آخر شرمندگی اور غصہ کی یہاں رہ کر نیوالفرڈ کمپنی کا تھیئیر دیکھیں۔یہ کمپنی اُن دنوں بمبئی سے لاہور آ کر آمیزش میں فرمانے لگے کہ حرامزادے جاتا کہاں ہے میں واپسی پر بچہ جی بہت شہرت پارہی تھی۔ہفتہ بھر تک وہ دونوں اور میں روز رات کو ٹو بجے سے ،